مسلمانوں تک واضح پیام نہ پہنچنا ، بی جے پی کے لیے فائدہ

   

مسلمانوں کو نوشتہ دار پڑھ لینی چاہئے ، انتخابات کا تجزیہ
حیدرآباد۔5۔ڈسمبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں مسلم رائے دہندوں کے منقسم ہونے کے نتیجہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی 8 نشستوں پر کامیابی یقینی ہوپائی ہے ۔ اگر مسلم رائے دہندوں کی جانب سے متحدہ طور پر ووٹ کا استعمال کیا جاتا تو ایسی صورت میں بھارتیہ جنتا پارٹی ایک یا دو نشستوں پر محدود ہوکر رہ جاتی۔ تلنگانہ اسمبلی انتخابات سے قبل سرکردہ مسلم شخصیات کی جانب سے اختیار کردہ موقف سے یونائیٹڈ مسلم فورم کے موقف سے انحراف کے نتیجہ میں یہ افسوسناک صورتحال پیدا ہوئی ۔ تلنگانہ اسمبلی انتخابات کے نتائج ان مسلم تنظیموں اور ذمہ داروں کے لئے نوشتہ دیوار ہیں جنہوں نے ریاست میں سیاسی دور اندیشی کا مظاہرہ کئے بغیر حکم کی اتباع کرتے ہوئے ’’ماموں‘‘ کی تائید کا اعلان کردیا اور مسلمانوں کی رائے کو منقسم کرنے کا کام انجام دیا۔ بی آر ایس حکومت کی مخالف مسلم پالیسیوں کے باوجود بی آرا یس کی تائید کااعلان کرتے ہوئے جن علماء و مشائخین اور تنظیموں نے مسلمانوں کی رائے کو منقسم کرنے کا کام انجام دیا ہے وہ تلنگانہ میں بی جے پی کو مستحکم کرنے کے ذمہ دار ہیں اور انہیں آئندہ کسی بھی طرح کی سیاسی تائید یا مخالفت کے لئے فیصلہ کرنے سے قبل مسلمانوں کے رجحان کے متعلق آگہی حاصل کرنی چاہئے اورکسی سیاسی دباؤ کے بغیر فیصلہ کرنا چاہئے لیکن اسمبلی انتخابات میں جو فیصلہ کیا گیا وہ نہ صرف ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے استحکام کا سبب بنا ہے بلکہ ریاست میں مسلمانوں کے وقارکو مجروح کرنے کی وجہ بھی ثابت ہوا ہے۔ یونائیٹڈ مسلم فورم میں شامل کئی اہم شخصیات نے تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں کھل کر کانگریس کی تائید کی اور کئی ذمہ داران نے فورم کے فیصلہ سے خود کو دور رکھتے ہوئے اپنی رائے سے واقف کروادیا تھا لیکن اس کے باوجود سیاسی احکام کی اتباع کرتے ہوئے فورم میں شامل بعض ذمہ داروں نے اس فیصلہ کے مسلمانوں پر ہونے والے اثرات کی پرواہ کئے بغیر بی آر ایس کی تائید کے فیصلہ کااعلان کیا تھا جس کے نتیجہ میں ریاست کے بیشتراضلاع میں کچھ غلامانہ ذہنیت کے حامل افراد نے بی آر ایس کے حق میں مہم چلاتے رہے ۔ مجموعی طور پر مسلم ووٹ کے فیصد کے سلسلہ میں جو اعداد وشمار موصول ہورہے ہیں ان کے مطابق کانگریس کو نصف سے زائد مسلم آبادی نے ووٹ کیا ہے جبکہ بی آر ایس کے حق میں مہم چلانے والوں کو شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑاہے۔ بی آر ایس کی تائید کا اعلان کرنے والی تنظیم کے ایک ذمہ دار نے بتایا کہ اگر باریکی سے صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہورہی تھی کہ ریاست میں کانگریس کو اقتدار حاصل ہوگا لیکن جن لوگوں نے علماء اور دیگر ذمہ داروں کو بی آر ایس کی تائید کے لئے آمادہ کیا وہ کھل کر اس بات کو کہہ رہے تھے کہ ’ماموں ‘ کو ایک اور موقع دیا جائے اسی لئے بعض علماء نے حکمت عملی کے نام پر اس فیصلہ کی تائید کی حالانکہ یونائیٹڈ مسلم فورم میں شامل کئی ذمہ داروں نے اس حکمت عملی کو ماننے سے صاف انکار کرتے ہوئے بی آر ایس کی تائید کے لئے ان کا نام استعمال نہ کرنے کی تاکید کردی تھی ۔