مسلمانوں میں تعلیمی بیداری وقت کا اہم تقاضہ

   

جماعت اسلامی کا اجتماع حافظ فریداللہ ، فاروق طاہر اور ڈاکٹر اسلام الدین مجاہد کا خطاب
حیدرآباد /15 جون ( پریس نوٹ ) ملک کے موجودہ بدلتے حالات میں ہندوستانی مسلمانوں کیلئے لازمی ہے کہ وہ حصول علم کے سارے ذرائع کو اختیار کرتے ہوئے اس میدان میں آگے بڑھیں۔ یہ دور مسابقت کا ہے ۔ اگر مسلم نوجوان تعلیم کے معاملے میں غفلت برتیں گے تو ہندوستان میں ہمارا مستقبل اور بھیانک ہوجائے گا ۔ اس لئے ہر سطح پر ملت میں تعلیمی شعور کو بیدار کرنے کی سخت ضرورت ہے ۔ ان خیالات کا اظہار ماہر تعلیم اور کالم نگار جناب فاروق طاہر ، رکن جماعت اسلامی ہند یا قوت پورہ نے 12 جون کو سید مودودیؒ لکچر ہال ، چھتہ بازار میں جماعت اسلامی ہند چارمینار کے اجتماع عام میں ’’ ملت میں تعلیمی بیداری ۔ عملی تدابیر‘‘ کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام نے علم کی کوئی تخصیص نہیں کی ہے ۔ قرون اولی کے مسلمان ہر علم میں مہارت رکھتے تھے ۔ اسی لئے دنیا کی امامت و قیادت ان کے ہاتھوں میں آئی ۔ لیکن آج علم کو دینی اور دنیاوی علوم میں تقسیم کرکے مسلمان تعلیم میں پیچھے ہوتے جارہے ہیں۔ ہر ایسا علم جو انسانیت کے نفع بخش ہو اس کا حصول مسلمانوں کیلئے لازمی ہے۔ علم کے ساتھ تربیت بھی ضرورت ہے ۔انہوں کہا کہ قرآن مجید میں 80 مقامات پر علم کا تذکرہ کیا گیا اور 778 مقامات پر ’’ افلاتفکرون ’’ اور ’’ افلاتدبرون ‘‘ کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا گیا کہ کیا تم غور نہیں کرتے اور کیا تم تدبر نہیں کرتے ۔ اس سے اسلام میں علم اور غور و فکر کرنے کی اہمیت واضح ہوتی ہے ۔ حافظ فریداللہ ، ناظم شعبہ تربیت ، جماعت اسلامی ہند ، گوشہ محل نے سورہ بقرہ کی آیات 30 تا 33 کا درس دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی نے زمین پر انسان کو اپنا خلیفہ بناکر بھیجا ۔ اس کی یہ ذمہ داری بتائی گئی کہ وہ خالق کائنات کے احکام پر عمل کرتے ہوئے دنیا میں امن و سلامتی کے ساتھ زندگی گذارے ۔ ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد ، امیر مقامی نے اپنے اختتامی خطاب میں کہا کہ ایک ایسی ملت جو حصول علم کی ایک درخشان تاریخ رکھتی ہے آج وہ تعلیمی شعبہ میں دیگر طبقوں سے بھی پیچھے ہے۔ مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کی مختلف وجوہات ہیں لیکن جب تک مسلمان اپنی تعلیمی ترجیحات طئے نہیں کریں گے ان کے دیگر مسائل بھی حل نہیں ہوں گے ۔ مسلمانوں کے سماجی ، معاشی ، تہذیبی اور سیاسی مسائل کا حل ان کی تعلیمی ترقی میں ہے ۔ اس لئے اب جب کہ نیا تعلیمی سال شروع ہو رہا ہے ۔ ہم اپنے بچوں کو تعلیم کی طرف راغب کریںاور اپنے نونہالوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں یہ وقت کا اہم تقاضا ہے ۔ جناب محمد حامد نے اجتماع کی کارروائی چلائی ۔