مسلمانوں میں پھوٹ پیدا کرنے بعض طاقتیں سرگرم

   

انگریزی اخبار میں گمراہ کن رپورٹ کی اشاعت، مسلم جماعتوں اور تنظیموں کا احتجاج

حیدرآباد۔ 26 فروری (سیاست نیوز) ایسے وقت جبکہ مرکز کے سیاہ قوانین کے خلاف مسلمان متحدہ طور پر احتجاج کررہے ہیں، بعض طاقتیں احتجاج کو کمزور کرنے کے لیے مسلمانوں میں پھوٹ پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ اسی سازش کے حصے کے طور پر ایک مقامی انگریزی اخبار نے گزشتہ دنوں ایک رپورٹ شائع کی جس میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ پرانے شہر میں مکان کرایہ پر دینے کے معاملے میں فرقہ واریت کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اخبار نے لکھا کہ مسلمان نہ صرف مسلموں بلکہ دوسرے فرقے سے تعلق رکھنے والوں کو مکان کرایہ پر دینے کے لیے آمادہ نہیں ہوتے۔ پرانے شہر کے بعض علاقوں کی نشاندہی کی گئی جس میں دارالشفاء، نورخاں بازار، دبیرپورہ اور یاقوت پورہ شامل ہیں۔ اخبار نے یہ تاثر دیا کہ مسلمان مکاندار اس لیے غیر مسلموں کو مکان کرایہ پر دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے کیوں کہ وہ اپنے مکانات میں دیگر مذاہب کے رسومات کی ادائیگی کے خلاف ہیں۔ مذکورہ رپورٹ کے ذریعہ نہ صرف ہندو اور مسلمانوں بلکہ شیعہ اور سنی میں تفریق پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ رپورٹ کی اشاعت کے بعد سے مسلمانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ مسلم تنظیموں نے اس سلسلہ میں اخبار کے ایڈیٹر کی توجہ مبذول کرائی اور اس رپورٹ پر معذرت خواہی کا مطالبہ کیا۔ مسلم تنظیموں نے ڈائرکٹر جنرل پولیس مہیندر ریڈی سے خواہش کی کہ وہ اس طرح کی رپورٹس پر نظر رکھیں جو سماج میں فرقہ وارانہ نفرت پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔ واضح رہے کہ مذکورہ اخبار اس طرح کی رپورٹس کی اشاعت کے لیے شہرت رکھتا ہے۔ ایسے وقت جبکہ مرکز کے سیاہ قوانین کے خلاف ریاست بھر میں ہندو مسلمان اور دیگر طبقات متحدہ طور پر آواز بلند کررہے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ منظم انداز میں اتحاد کو توڑنے کے لیے سازش کی گئی ہو اور اس رپورٹ کا سہارا لے کر شیعہ اور سنی کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔ مسلم تنظیموں نے مذکورہ اخبار کے ایڈیٹر سے خواہش کی کہ وہ نہ صرف اس طرح کی بے بنیاد خبروں کی اشاعت سے گریز کریں بلکہ اس خبر کی اشاعت پر معذرت خواہی کریں۔ انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں دبیرپورہ بلدی ڈیویژن کے ضمنی چنائو میں جو سنی اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے وہاں کے رائے دہندوں نے شیعہ امیدوار میر باسط علی کو 80 فیصد ووٹوں کی اکثریت سے کامیاب بناتے ہوئے اس بات کا ثبوت دیا کہ حیدرآباد شیعہ اور سنی کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔