مسلمانوں پر عیدکی شاپنگ کیلئے ہجوم کی شکل میں نکلنے میڈیا کے الزامات

   

فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے مسلم دشمن عناصرکی مہم سے چوکس رہنے سرکردہ علماء و عمائدین کی اپیل

حیدرآباد۔17مئی(سیاست نیوز) مسلمانوں پر عید کی خریداری کے لئے ہجوم کی شکل میں بازاروں میں پہنچنے کے الزامات کا سلسلہ شروع کردیا گیا اور فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والے قومی چیانلس کی جانب سے بے بنیاد ویڈیوز اور بعض بازاروں کی تصاویر حاصل کرتے ہوئے یہ تاثر دیا جا رہاہے کہ عید کی خریداری کیلئے مسلمان بازارو ںمیں نکل آئے ہیں اور وہ اس خریداری کیلئے سماجی فاصلہ اور لاک ڈاؤن کے اصولوں کو ملحوظ نہیں رکھ رہے ہیں ۔ قومی ٹیلی ویژن چیانلس کو اس بات کا موقع نہ فراہم کرنے اور ذرائع ابلاغ ادارو ںکی اس سازش کے سلسلہ میںمتعدد مرتبہ چوکنا کیا جاچکا ہے اور ادارہ سیاست کے علاوہ ملک و ریاست کے علاوہ شہر حیدرآباد کے کئی اہم سرکردہ علماء و عمائدین نے بھی ملت اسلامیہ کو عید کی خریداری نہ کرنے اور ان حالات میں غریبوں اور مستحقین کی مدد کرنے کی تلقین کی تھی اور اب جیسے جیسے عید الفطر قریب آتی جا رہی ہے منافرت پھیلانے والے ذرائع ابلاغ اداروں کی جانب سے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کا آغاز کیاجاچکا ہے اور کہا جا رہاہے کہ مسلمان ہجوم کی شکل میں بازارو ںمیں جمع ہوتے ہوئے کورونا وائرس پھیلانے کے مرتکب بننے لگے ہیں۔ لاک ڈاؤن 1.0اور2.0 کے علاوہ 3.0 کی طرح مسلمانو ں کورونا وائرس پھیلانے کا ذمہ دار قرار دینے کی منظم سازش کا یہ دوسرا مرحلہ ہے پہلے مرحلہ میں تبلیغی جماعت کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں کورونا وائرس کے لئے ذمہ دار قرار دینے کی کوشش کرتے ہوئے مسلم ٹھیلہ بنڈی رانوں کو نشانہ بنایا گیا اورانہیں غیر مسلم آبادیو ںمیں داخل ہونے سے روک دیا گیا

اور اب ذرائع ابلاغ کی جانب سے دوسرے دور کی مخالف مسلم مہم شروع کی جاچکی ہے اور انہیں نشانہ بنانے کیلئے بازاروں کا رخ کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ لاک ڈاؤن کی اس صورتحال میں عید کی خریداری کرنے والوں اور تجارتی ادارو ںکو کھولتے ہوئے عید کی خریداری کی راہ ہموار کرنے والوں چاہئے کہ وہ ہندستان میں مسلمانو ںکی صورتحال کا جائزہ لیں اور امت کو بدنامی اور نشانہ بننے سے بچانے کیلئے اسی کسی بھی سرگری کا حصہ نہ بنیں جس سے یہ الزام عائد ہوکہ کورونا وائرس پھیلانے کے لئے مسلمان ذمہ دار ہیں۔