خواتین اور متوسط خاندان کے افراد سیاسی لیڈروں کی قسمت بدلیں گے ، بی جے پی پرجوش
نئی دہلی ۔ ہندوستان کے دارالحکومت دہلی میں 5 فروری کو اسمبلی انتخابات ہوں گے اور ووٹوں کی گنتی 8 فروری کو کی جائے گی۔ اسمبلی انتخابات میں ایک ماہ سے بھی کم وقت باقی رہ گیا ہے لیکن کانگریس پارٹی ابھی تک 32 نشستوں کے لیے ٹکٹ تقسیم نہیں کرپائی ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے41 نشستوں کے لیے امیدواروں کا اعلان نہیں کیا۔ برسراقتدار جماعت عام آدمی پارٹی (عآپ) نے تمام 70 نشستوں کے لیے امیدواروں کا اعلان کردیا ہے۔ دہلی کی قسمت تین ایم کے ووٹنگ پیٹرن پر منحصر ہے: خواتین (مہیلا)، مسلمان، اور متوسط طبقہ یہ تین ایم دہلی انتخابات کے نتائج طے کرسکتے ہیں۔ یہ ووٹ بینک بادشاہ گرکے طور پر سامنے آئے ہیں اور تمام پارٹیاں ان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ خواتین انتخابات میں مسلسل کنگ میکرز کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ خواندگی میں بہتری کی وجہ سے خواتین خود مختار طور پر ووٹ دینے کے فیصلے کر رہی ہیں۔ وہ کئی ریاستوں میں مردوں کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں پولنگ اسٹیشنوں پر پہنچ رہی ہیں۔ مدھیہ پردیش، مہاراشٹر اور جھارکھنڈ میں، بہت سی خواتین نے موجودہ حکومتوں کو ووٹ دیا، جو نقد آمدنی کے امدادی اسکیموں سے متاثر ہوئیں۔2011 کی مردم شماری کے مطابق مسلمانوں کی ریاست کی آبادی میں تقریباً 13 فیصد حصہ ہے۔ کبھی کانگریس کے پکے حامی سمجھے جانے والے مسلمان رائے دہندوں نے پچھلے سالوں میں عام آدمی پارٹی (عآپ) کی طرف رخ کرلیا ہے۔ 2008 کے اسمبلی انتخابات میں64 فیصد مسلمانوں نے کانگریس کی حمایت کی، 14 فیصد نے بی جے پی کی اور22 فیصد نے دیگر جماعتوں کی حمایت کی تھی ۔ 2013 میں جو عآپ کا پہلا انتخاب تھا، 53 فیصد مسلمانوں نے کانگریس اور 12 فیصد نے عآپ اور بی جے پی کی حمایت کی۔ 2015 میں مسلمانوں کے77 فیصد رائے دہندوں نے عآپ کو ووٹ دیا، جو2020 میں بڑھ کر 83 فیصد ہوگیا۔ کانگریس کو صرف 13 فیصد اور بی جے پی کو 3 فیصد ووٹ ملے۔2020 میں عآپ کے 54 فیصد ووٹ شیئر میں سے تقریباً 11 فیصد مسلمانوں کے ووٹ سے آئے۔ ہر پانچ ووٹرز میں سے ایک عآپ کا ووٹر مسلمان ہے۔ اس لیے یہ ووٹ بلاک عآپ کے لیے برقرار رکھنا بہت ضروری ہے۔ عآپ کے بی جے پی پر15 فیصد مجموعی ووٹ شیئرکی برتری میں سے 10 فیصد مسلمانوں کے ووٹوں کا حصہ ہے۔ان حالات کو دیکھ کر عآپ اور کانگریس دونوں ہی بادشاگر مسلمانوں کا رخ کررہی ہیں ۔