مسلمانوں کا سماجی اور اقتصادی بائیکاٹ کرنے ہندوؤں سے اپیل

   

گھر واپسی کیلئے مہم چلانے کی ضرورت ، میرٹھ میں آنند سوروپ مہاراج کا متنازعہ بیان
میرٹھ :ہندو سماج کے مذہبی رہنما مہا منڈلشور آنند سوروپ گری مہاراج نے ایک بار پھر مسلم سماج کے خلاف متنازعہ بیان دیا ہے۔ آنند سوروپ مہاراج نے میرٹھ میں منعقدہ ہندو پنچایت کے منچ سے خطاب کرتے ہوئے اسلام کو کھل کر نشانہ بنایا اور مسلمانوں کی گھر واپسی کے لیے مسلمانوں کا سماجی اور اقتصادی بائیکاٹ کرنے کی ہندوؤں سے اپیل کی۔ آنند سوروپ مہاراج نے کہا کہ مسلمانوں کی مذہب تبدیلی کے لیے ہندوؤں کو مسلمانوں کا اقتصادی بائیکاٹ کرنے کے ساتھ نماز اور قرآن چھوڑنے کے لئے بھی دباؤ بنانا چاہئے۔ میرٹھ میں چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کے برہسپتی بھون میں شنکراچاریہ پریشد اور بھاگیہ اُدے فاؤنڈیشن کے مشترکہ اشتراک سے منعقدہ پروگرام ہندو پنچایت میں شنکراچاریہ پریشد کے صدر مہا منڈلشور آنند سوروپ گری مہاراج نے عیسائی اور اسلام مہذب کو مذہبی فرقہ پرستی کا نشانہ بناتے ہوئے ہندو راشٹر نرمان میں خطرہ بتایا اور ہندوؤں سے اپیل کی کہ مسلمانوں کی مذہب تبدیلی کے لیے اْن کا سماجی اور اقتصادی بائیکاٹ کرنے کے ساتھ نماز اور قرآن چھوڑنے کا دباؤ بنانے کی ضرورت ہے۔آنند سروپ مہاراج نے کہا آئندہ چار سال میں ہندوستان ہندو راشٹر بن جائیگا اور اسکے ساتھ ہی ہندوؤں کو دھرم یودھ کے لیے تیار رہنا چاہیے آنند مہاراج نے کہا ہندوؤں کو ایک کروڑ سوم سینکوں کی ضرورت ہے جنکے پاس ہتھیار ہونے چاہیے مہا منڈلشور آنند سوروپ گری مہاراج نے مسلمانوں کی گھر واپسی کروانے کے لیے سماجی اور اقتصادی بائیکاٹ کے دباؤ کی حکمت اختیار کرنے کی ہندوؤں کو صلاح دی۔