مسلمانوں کا سورن مندر میں لنگر کیلئے 33 ٹن اناج کا عطیہ

   

Ferty9 Clinic

گزشتہ 15 سال سے سکھ ۔مسلم اتحادکیلئے نسیم اختر کی مساعی کو دونوںطبقوںکی تائید

ملیر کوٹلہ: امرتسر میں واقع سکھوں کا مشہور گردوارہ ’سورن مندر‘ میں ملیر کوٹلہ کے مسلمانوں کی جانب سے 33 ٹن اناج کا عطیہ کیے جانے کا معاملہ کافی زیر بحث ہے۔ مسلمانوں کے ایک گروپ نے خود سورن مندر پہنچ کر کار سیوا کی اور اناج سے بھرے ٹرک سورن مندر انتظامیہ کو سونپ دیئے۔ ملیر کوٹلہ پنجاب کے ان علاقوں میں سے ایک ہے جہاں مسلمان کافی تعداد میں رہتے ہیں۔ مسلمانوں کا وفد ملیر کوٹلہ کے ڈاکٹر نسیم اختر کی سربراہی میں سورن مندر پہنچا تھا۔ نسیم اختر گزشتہ 15 سالوں سے سکھوں اور مسلمانوں کو نزدیک لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔وہ پنجاب میں سکھ-مسلم مشترکہ فاؤنڈیشن چلاتے ہیں اور پنجاب بھر میں مشہور ہیں۔نسیم اختر نے میڈیا کو بتایا کہ لاک ڈاؤن کے دوران سورن مندر کی طرف سے ایک اپیل جاری کی گئی تھی کہ لنگر کے لئے تعاون دیا جائے۔ سورن مندر میں بہت بڑا لنگر چلایا جاتا ہے اور اس میں کھانے والوں سے یہ نہیں پوچھا جاتا کہ اس کا مذہب کیا ہے۔ نسیم نے کہا، ’’مجھے محسوس ہوا کہ ہمیں بھی اس کام میں تعاون کرنا چاہیے۔ ہم چاہتے تو گاؤںکے کچھ امیر لوگ مل کر ایسا کر سکتے تھے۔ مگر میرا مشورہ تھا کہ ہم نے مسلم اکثریتی گاؤںکے گھروں سے 5-5 کلو اناج اکٹھا کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہمارا خیال تھا کہ اس سے اچھا پیغام جائے گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ 35 دنوں تک گھر گھر جا کر 5-5 کلو اناج اکٹھا کیا گیا اور اس کا اچھا ردعمل حاصل ہوا۔ لوگوں نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس دوران سکھوں اور مسلمانوں نے مل کر کام کیا اور مسلمانوں کا ہر گاؤںمیں استقبال کیا جاتا تھا۔ سکھ سماج کی عورتوں کی آنکھیں تو نم بھی ہو جایا کرتی تھیں۔ وہ پانی لے کر آتیں، کھانا کھانے کی درخواست کرتیں اور خوب دعاؤں سے نوازتی تھیں۔