مسلم آبادی میں اضافہ ہورہا ہے، واشنگٹن میں نرملا سیتا رامن کی عجیب منطق
نئی دہلی : مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتا رامن نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان کے مسلمان پاکستان میں رہنے والے مسلمانوں سے بہت بہتر زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ واشنگٹن میں ایک تقریب میں ہندوستان کے بارے میں منفی مغربی ”خیال’’کا جواب دے رہی تھیں۔نرملا اتوار کے روز واشنگٹن پہنچیں جہاں وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک کے اجلاسوں میں شرکت کریں گی اور ہندوستانی صدارت میں جی 20 کے وزرائے فینانس اور مرکزی بینک کے گورنروں کی دوسری میٹنگ کی صدارت کریںگی ۔پیٹرسن انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل اکنامکس میں ہندوستان میں سرمایہ کاری یا سرمائے کے بہاؤ کو متاثر کرنے والے تاثرات کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے نرملا نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ اس کا جواب ان سرمایہ کاروں کے پاس ہے جو ہندوستان آرہے ہیں،میں صرف اتنا کہوں گی کہ ہندوستان میں کیا ہو رہا ہے اس پر ایک نظر ڈالیں، بجائے اس کے کہ ان لوگوں کے خیالات سنیں جو اصل مقام پر بھی نہیں گئے اور جو رپورٹیں تیار کرتے ہیں۔جب PIIE کے صدر آڈم ایس پوسن نے مغربی میڈیا میں اپوزیشن پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کی حیثیت کھونے اور ہندوستان میں مسلم اقلیتوں کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے بارے میں وسیع پیمانے پر رپورٹنگ کے بارے میں پوچھا تو وزیر فینانس نے جواب دیا کہ بھارت دنیا میں دوسری سب سے بڑی مسلم آبادی والا ملک ہے۔ اور وہ آبادی بڑھ رہی ہے۔ اگر ان کے خلاف مظالم ہوتے یا انھیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تو ان کی آبادی میں کس طرح اضافہ ہو سکتا تھا؟ ملک کی آزادی کے بعد 1947 میں مسلمانوں کی جو آبادی تھی اس میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔
’مسلمان کی زندگی مشکل ہوتی، تو پھر ان کی آبادی کیوں بڑھتی‘؟
پاکستان میں ہندو اقلیتی برادری کی تعداد کم ہورہی ہے، پیٹرسن فار انٹرنیشنل اکنامکس سے نرملا سیتارامن کا خطاب
نئی دہلی/واشنگٹن: مرکزی وزیر خزانہ نے ملک مسلمانوں کے ساتھ مبینہ تشدد کی، اس دلیل کے ساتھ، تردید کی ہے کہ اگر ملک میں مسلمانوں کی زندگی مشکل بنائی جا رہی ہوتی، تو ان کی آبادی میں اضافہ نہیں ہوتا۔ہندوستان کی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے ملک میں مسلمانوں کے خلاف جاری مبینہ تشدد اور تفریق کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک خیال ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے مودی حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک میں مسلمانوں کی زندگی مشکل ہوتی تو ان کی آبادی میں اضافہ نہیں ہوتا۔واشنگٹن میں پیٹرسن انسٹیٹیوٹ فار انٹرنیشنل اکنامکس میں خطاب کے دوران انہوں نے یہ باتیں کہیں۔ اس دوران انہوں نے پاکستان پر بھی شدید نکتہ چینی کی۔گزشتہ ماہ امریکی حکومت کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مودی حکومت ایسے ہندوستانی مسلمانوں کو خاص طور پر نشانہ بنا رہی ہے، جو حکومت پر نکتہ چینی کرتے ہیں اور ان کے گھروں اور معاش کو تباہ کرنے کے لیے بلڈوزر کا استعمال کرتی ہے۔امریکی تھنک ٹینک پیٹرسن انسٹیٹیوٹ فار انٹرنیشنل اکنامکس کے صدر ایڈم ایس پوسن نے ہندوستانی وزیر سے سوال کیا کہ کیا ملک میں مسلم اقلیتوں کی حیثیت اور ان کے خلاف ہونے والے تشدد کے تئیں مغرب میں جو ایک فکر پائی جاتی ہے، اس پر انہیں کوئی تشویش ہے؟اس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان دنیا میں دوسری سب سے بڑی مسلم آبادی والا ملک ہے اور یہ آبادی تعدادکے لحاظ سے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ خیال ہے، یا حقیقت میں ان کی زندگی مشکل ہے یا پھر ریاست کی مدد سے ان کی زندگی کو مشکل بنایا جا رہا ہے، جو بہت سی تحریروں میں بھی مضمر ہے، تو پھر میرا سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہے تو پھر 1947 کے بعد مسلمانوں کی جو آبادی تھی اس میں اضافہ کیوں ہوا ہے؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس حوالے سے میں پاکستان کا نام لینا چاہتی ہوں، جس کا وجود ساتھ میں ہی ہوا تھا اورگرچہ اس نے اسلامی ملک ہونے کا اعلان کیا تاہم اقلیتوں کے تحفظ کی بات کہی تھی۔ تاہم وہاں تو ہر اقلیتی برادری کی تعداد کم ہوتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں سخت الفاظ استعمال کروں تو پاکستان میں اقلیتیں ختم ہو رہی ہیں۔ یہاں تک کہ وہاں مسلمانوں کے کچھ فرقے بھی ختم ہو چکے ہیں۔ جب کہ ہندوستان میں آپ کو مسلمانوں کا ہر طبقہ اپنا کاروبار کرتے ملے گا، ان کے بچے تعلیم پا رہے ہیں اور انہیں فیلو شپ سے نوازا جا تا ہے۔
ہندوستانی وزیر کا کہنا تھا کہ ملک کی مختلف ریاستوں میں الگ الگ حکومتیں ہیں اور امن و قانون نافذ کرنے کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں کی ہے، ”تو یہ کہنا کہ مسلمانوں کو متاثر کرنے کے لیے ملک بھر میں تشدد برپا کیا جا رہا ہے، اپنے آپ میں غلط ہے۔”
سیتا رامن نے پاکستان کی اقلیتوں کی حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ خود کو ایک اسلامی ملک قرار دینے کے باوجود پاکستان اقلیتوں کے تحفظ میں ناکام ہوگیا ہے، پاکستان میں ہر اقلیتی گروہ کی تعداد کم ہو گئی ہے اور یہاں تک کہ کچھ مسلم فرقوں کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔مہاجر، شیعہ اور ہر دوسرے گروہ کے خلاف تشدد جاری ہے جسے آپ مرکزی دھارے میں قبول نہیں کرتے۔۔ جب کہ ہندوستان میں آپ کو مسلمانوں کا ہر طبقہ اپنا کاروبار کرتے ہوئے، ان کے بچوں کو تعلیم حاصل کرتے ہوئے نظر آئے گا۔