مسلمانوں کو سیاسی نمائندگی کی بنیاد پر مسلم ووٹوں کا فیصلہ

   

مسلم تنظیموں کا بی آر ایس سے سوال نہیں ‘ کانگریس پر دباؤ کی حکمت عملی

حیدرآباد 10 اکٹوبر(سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں کو سیاسی جماعتوں سے دی جانے والی نمائندگی کی بنیاد پر مسلمان سیاسی تائید کے متعلق فیصلہ کریں گے!تلنگانہ میں مسلمانوں کیلئے بی آر ایس کے متبادل کے طور پر قومی جماعت کانگریس کو پیش کئے جانے پر مسلم تنظیموں کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ یہاں کرناٹک کی طرح حالات نہیں ہیں اسی لئے کانگریس کے حق میں متحدہ ووٹوں کے استعمال کی وجہ ہونی چاہئے لیکن ان تنظیموں کے ذمہ دار یہ بھی اعتراف کر رہے ہیں کہ تلنگانہ کے ایوانوں میں مسلم نمائندگی میں جو کمی آئی ہے اسے دور کرنے اگر کانگریس سے اقدامات کئے جاتے ہیں تو کانگریس مسلمانوں کے ووٹ متحدہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے ۔ بی آر ایس نے 3مسلم امیدواروں کو ٹکٹ کا اعلان کیا ہے جن میں ایک بودھن کے موجودہ رکن اسمبلی ہیں جبکہ دو کا تعلق پرانے شہر کے حلقوں سے ہے جہاں سے بی آر ایس کی کامیابی کے کوئی امکان نہیں ہیں اس طرح کامیابی کی نشست پر بی آر ایس نے صرف ایک مسلمان کو ٹکٹ دیا ہے جبکہ ریاست کے 36 حلقوں پر مسلمانوں کا ووٹ فیصلہ کن ہے لیکن ان میں بعض محفوظ نشستوں کے سبب مسلمانوں کا ان پر مقابلہ ممکن نہیں ہے ۔ اس کے باوجود ایسی 20 نشستیں ہیں جہاں سے مسلم امیدوار کو ٹکٹ دیا جاسکتا ہے مگر بی آر ایس نے محض تین مسلم امیدوار اتار کر یہ باور کروایا کہ وہ مسلم نمائندگی میں اضافہ کے حق میں نہیں ہیں ۔ اس کے برعکس اگر کانگریس 119 حلقہ جات میں مسلم قائدین کو بہتر نمائندگی فراہم کرتی ہے تو مسلم تنظیموں کے پاس مسلمانوں کو نمائندگی نہ دیئے جانے کا کوئی بہانہ نہیں ہوگا بلکہ انہیں موجودہ صورتحال کانگریس کی مخالفت کا کوئی جواز نہیں رہے گا جبکہ برسراقتدار جماعت سے گذشتہ 9 برسوں میں کئے گئے وعدوں کو پورانہ کئے جانے کے سبب شدید ناراضگی ہے ۔مسلم تنظیموں کے سربراہان جو کہ تلنگانہ کی سیاست پر گہری نظریں رکھتے ہیں ان کا کہناہے کہ اگر کانگریس ریاست کے ایوانوں میں مسلم نمائندگی کو بہتر بنانے مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارتی ہے تو نہ صرف ریاست کے مسلمان بلکہ دلت اور دیگر کمزور طبقات بھی کانگریس کے حق میں ووٹ کا استعمال کریں گے۔