’’مسلمانوں کو مارو اور نالے میں پھینک دو ‘‘

   

دہلی فساد سے متعلق نثار احمد کی پولیس شکایت میں انکشاف
دہلی : دہلی فسادات سے متعلق ایک شکایت کنندہ نثار احمد نے /22 مارچ کو گوکل پوری پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی تھی ۔ جنرل ڈائری انٹری
(GD No. 0026A)
کے اقتباسات میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ 200-250 افراد گوکل پوری برج ٹول ٹیکس کے قریب جوس کی دکان میں جمع ہوئے ۔ وکاس کیشپ ڈی جے اُس وقت ’جئے شری رام‘ ، ’ ہندو یکتا زندہ باد‘‘ اور ’’جاگو ہندو جاگو جیسے ‘‘ نعرے لگارہا تھا ۔ نثار احمد نے اپنی شکایت میں کہا کہ جو لوگ وہاں جمع تھے اگر انہیں سامنے لایا گیا تو وہ انہیں پہچان لے گا ۔ کنہیا لال نامی شخص اشتعال انگیز تقریر کررہا تھا ۔ ہندو سب گھر سے نکلو اور سی اے اے کی تائید کرو ۔ ان کو بھاگروتی وہار کالونی سے باہر نکالو ۔ ان کو مارو ، ان کے گھر پر قبضہ کرو اور ان کے مال کو لوٹ لو۔ بی جے پی کونسلر کنہیا لال نے نثار احمد کے بیان کے مطابق ہندوؤں کو گھروں سے باہر آنے ، مسلمانوں کو بھاگیرتھی وہار کالونی سے باہر نکالنے اور مسلمانوں کو قتل کرنے جیسی اشتعال انگیز تقریر کی ۔ نثار احمد نے بتایا کہ وہ ایسے نعروں اور تقریر سے خوفزدہ ہوگیا اور گھر کی چھت سے نیچے آکر شام 6 بجے کے وقت اپنے موبائیل سے 100 نمبرڈائیل کیا اور بتایا کہ پچھلے 3 گھنٹوں سے جوس کارنر کے قریب بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوگئے ہیں اور فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلا رہے ہیں ۔ 100 نمبر پر 5 سے زیادہ مرتبہ انہوں نے ڈائیل کیا لیکن ادھر سے یہی جواب آتا رہا کہ وہ پولیس کو بھیج رہے ہیں لیکن پولیس نہیں آئی ۔