بھارت راشٹرا سمیتی کو محض مسلم ووٹ بینک کی فکر، کونسل میں صرف ایک مسلم نمائندہ،12 فیصد تحفظات سے انحراف
حیدرآباد۔/3 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی برسر اقتدار بی آر ایس اور اس کی حلیف مقامی جماعت مجلس نے مسلمانوں کے ووٹ بینک پر توجہ مرکوز کردی ہے۔ دونوں پارٹیوں سے یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ گذشتہ نو برسوں میں بی آر ایس حکومت نے اقلیتوں و بالخصوص مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی و سماجی ترقی میں نیا انقلاب برپا کیا ہے۔ تلنگانہ کے اقلیتی ووٹر اب باشعور ہوچکے ہیں اور وہ حکومت کے نمائندوں سے سوال کررہے ہیں کہ گذشتہ نو برسوں میں مسلمانوں کی پسماندگی کے خاتمہ کیلئے کیا ٹھوس اقدامات کئے گئے؟۔ مسلمانوں کے معیار زندگی اور مسلم خاندانوں میں روزگار اور تعلیم کے مواقع میں اضافہ سے متعلق اعداد و شمار کہاں ہیں۔ محض زبانی وعدوں اور دعوؤں سے مسلم ووٹ بینک کو حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت نے گذشتہ نو برسوں کے دوران اقلیتی بہبود پر 12 ہزار کروڑ خرچ کرنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن آج بھی مسلمان معاشی طور پر اس قدر پسماندہ ہیں کہ وہ میکانک، میوہ فروش، پنکچر، آٹو ڈرائیور، ٹیکسی ڈرائیور، چائے اسٹال اور دیگر چھوٹے کاروبار پر مجبور ہیں۔ آج بھی حیدرآباد اور دیگر علاقوں میں گداگروں کی اکثریت مسلمان ہی نظر آتی ہے۔ حکومت کے پاس ایسے کوئی اعداد و شمار نہیں ہیں جن کے ذریعہ یہ ثابت کیا جاسکے کہ 12 ہزار کروڑ کے خرچ سے کتنے مسلم خاندانوں کی معاشی حالت میں سدھار ہوا۔ گذشتہ نو برسوں کے دوران سرکاری سطح پر مسلمانوں کو کتنی ملازمتیں حاصل ہوئیں اس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ 50 لاکھ سے زائد آبادی کیلئے نو برسوں میں 12 ہزار کروڑ کا خرچ کوئی کارنامہ نہیں ہوسکتا کیونکہ حکومت نے اقلیتی بہبود کے بجٹ کو کسی بھی سال مکمل جاری نہیں کیا اور 12 ہزار کروڑ میں مختلف تعمیری سرگرمیاں و ایسی اسکیمات شامل ہیں جن سے مسلمانوں کے معیار زندگی میں کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوئی۔ اسکالر شپ، فیس باز ادائیگی اور اوورسیز اسکالر شپ کے بقایا جات پر وضاحت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ فیس بازادائیگی کے بقایا جات کی عدم اجرائی کے سبب تقریباً 50اقلیتی انجینئرنگ کالجس بند ہوچکے ہیں۔ اسکے علاوہ کئی دیگر پروفیشنل کالجس بھی بقایا جات کی عدم اجرائی کے سبب بند کردیئے گئے۔ الیکشن سے عین قبل مسلم خواتین کو سیونگ مشین اور چھوٹے کاروبار کیلئے دس ہزار افراد کو ایک لاکھ روپئے کی امداد کی اسکیم پر عمل کیا گیا۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ گذشتہ نو برسوں میں ہر سال ان اسکیمات پر عمل کیا جاتا تاکہ کم از کم ایک لاکھ خاندانوں کی معاشی حالت میں سدھار ہوتا۔ سیونگ مشین کی تقسیم اور ایک لاکھ روپئے امدادی اسکیم کے علاوہ ڈبل بیڈ روم مکانات کی فراہمی میں برسراقتدار اور حلیف پارٹی کے کارکنوں کو ترجیح دینے کی شکایات عام ہیں۔ مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی میں اضافہ کا کے سی آر کا وعدہ ادھورا رہ گیا ۔ 20 اپریل 2014 کو شاد نگر میں کے سی آر نے چار ماہ میں مسلمانوں کیلئے 12 فیصد تحفظات پر عمل آوری کا اعلان کیا تھا لیکن بعد میں اپنے وعدہ سے یہ کہتے ہوئے انحراف کرلیا کہ انہوں نے چار مہینے میں تحفظات کا وعدہ نہیں کیا۔ 27 نومبر 2018 کو جلسہ عام میں ایک مسلمان نے جب 12 فیصد تحفظات کے بارے میں سوال کیا تو کے سی آر نے انہیں ڈانٹ دیا تھا۔ یہ دونوں ویڈیو آج بھی سوشیل میڈیا میں وائرل ہیں۔ مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی میں نو برسوں میں اضافہ کی بجائے کمی ہوئی ہے۔ دو انتخابات میں بی آر ایس سے صرف ایک مسلم رکن اسمبلی منتخب ہوتا رہا جبکہ کونسل میں مسلم نمائندگی ایک تک محدود ہوچکی ہے۔ کے سی آر نے اقلیتی قائدین کو حکومت کے عہدوں اور نامزد عہدوں پر مناسب نمائندگی کا وعدہ کیا تھا لیکن اقلیتی اداروں کے علاوہ غیر اقلیتی کارپوریشنوں اور بورڈس میں نمائندگی نہیں دی گئی جس کے نتیجہ میں پارٹی مسلم قائدین ناراض ہیں۔ 12 فیصد تحفظات تو کجا کم از کم کونسل میں نمائندگی کو برقرار رکھا جاسکتا تھا۔ متحدہ آندھرا پردیش میںکونسل کے 9 مسلم ارکان تھے جبکہ کونسل کی مجموعی تعداد 90 تھی۔ کانگریس سے محمد علی شبیر، فاروق حسین، محمد جانی اور حافظ پیر شبیر احمد کو منتخب کیا گیا تھا۔ تلگودیشم نے ابراہیم بن عبداللہ مسقطی اور محمد سلیم کو نمائندگی دی۔ ٹی آر ایس کے محمد محمود علی کانگریس کی تائید سے کونسل کیلئے منتخب ہوئے۔ ان کے علاوہ مجلس کے دو ارکان تھے۔90 رکنی کونسل میں مسلم نمائندگی 10 فیصد تھی۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد کونسل کی مجموعی تعداد گھٹ کر 40 ہوگئی جن میں 34 ارکان الیکشن کے ذریعہ اور 6 گورنر کوٹہ سے نامزد کئے جاتے ہیں۔ تلنگانہ میں محمد علی شبیر کی میعاد ختم ہوئی اور کانگریس عددی طاقت سے محروم تھی۔ فاروق حسین نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار جبکہ محمد سلیم بھی تلگودیشم چھوڑ کر ٹی آر ایس میں شامل ہوگئے۔ محمد سلیم کو میعاد کی تکمیل کے بعد دوبارہ موقع نہیں دیا گیا اور ان کی ختم شدہ میعاد تلگودیشم کی عطا کردہ تھی۔ فاروق حسین اور محمود علی کو دوسری مرتبہ کونسل کیلئے نامزد کیا گیا۔ سابق وزیر فرید الدین کو کانگریس سے ٹی آر ایس میں شمولیت پر کونسل رکنیت دی گئی لیکن دوسری مرتبہ موقع نہیں دیا گیا۔ فاروق حسین کی میعاد 27 مئی کو ختم ہوئی لیکن انہیں دوبارہ موقع نہیں دیا گیا۔ فرید الدین اور فاروق حسین کی سبکدوشی کے بعد بی آر ایس مسلم ارکان کونسل کی تعداد گھٹ کر صرف ایک رہ گئی ہے۔ اسمبلی اور کونسل دونوں میں بی آر ایس کی صرف ایک، ایک نمائندگی ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو تلنگانہ میں مسلم ارکان کی تعداد 6 سے گھٹ کر 3 ہوگئی ہے۔ مسلمانوں کا تاثر ہے کہ روزگار اور معاشی ترقی میں نظرانداز کیا گیا اسی طرح سیاسی نمائندگی بھی اضافہ کے بجائے مزید کم ہوچکی ہے۔