مسلمانوں کیلئے سب پلان کا قیام آخر کب ؟ کویتا

   

کابینہ میں کوئی مسلم وزیر نہیں، آخر مسلمان کہاں جائیں؟ عوام کے حقوق کیلئے ہم حکومت کو مجبور کریں گے
قاضی پیٹ۔ 24 ڈسمبر (شاہنواز بیگ کی رپورٹ) عوام کے حل طلب مسائل کی یکسوئی کے لئے حکومت کو جھکاکر دم لیں گے اور مستحقین کی آواز کو ایوانوں میں اٹھاتے ہوئے حکومت سے لڑیں گے۔ اس بات کے عزم کا اظہار رکن قانون ساز کونسل کے کویتا نے نمائندہ سیاست شاہنواز بیگ سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے علاوہ دور دراز اضلاع کے مقام پر عوام کے بے شمار مسائل ہیں جس کے سبب وہاں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن وہاں کی عوام آواز اٹھانے سے قاصر ہیں۔ میں ان کی آواز بن کر حکومت سے نمائندگی کروں گی۔ بالخصوص مسلمانوں کے جو بھی مسائل ہیں اس پر بھی مکمل توجہ دہانی کراؤں گی۔ ائمہ موذنین کیلئے اعزازیہ میں اضافہ اور اس کی اجرائی، مستحق طلبہ کیلئے اسکالرشپس، شادی مبارک و کلیان لکشمی اسکیم کے تحت ایک تولہ سونا اور دیگر اہم مسائل سے متعلق اسمبلی اجلاس میں حکومت پر دباؤ ڈالا گیا ہے جس پر اسپیکر نے ان مسائل کو نوٹ کرتے ہوئے جلد یکسوئی کا تیقن دیا ہے۔ ایم ایل سی کویتا نے کہا کہ اضلاع میں عوام کے بہت سارے طبقات بشمول مسلمان اپنے مسائل کسی کو بول نہیں پاتے ہیں نہ اس سلسلہ میں نمائندگی کر پاتے ہیں۔ بالخصوص مسلمانوں کو حکومت تک اپنی بات پہنچانے کیلئے کافی مسائل کا سامنا ہے اس لئے کہ ان کی نمائندگی کیلئے کابینہ میں حکومت کے قیام کے ایک سال کے بعد بھی مسلم وزیر نہیں بنایا گیا ہے جو باعث افسوس ہے۔ ریاست کی تاریخ کو اور گنگا جمنی تہذیب کو برقرار رکھتے ہوئے گزشتہ 10 سالہ بی آر ایس حکومت میں کابینہ میں مسلم نمائندگی موجود تھی جسے کانگریس حکومت نے یکسر نظرانداز کردیا ہے۔ چنانچہ ضروری ہے کہ کانگریس حکومت میں جتنا جلد ہو سکے مسلم وزیر کو شامل کیا جائے تاکہ مسلمان بلا جھجھک اپنے نمائندہ وزیر کے ذریعہ اپنی بات ایوان میں پہنچا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے عوام اور مسلمانوں کیلئے کئی وعدے کئے تھے جو تاحال وفا نہیں ہوئے۔ مسلمانوں کیلئے سب پلان بھی ابھی تک قائم نہیں کیا گیا جس کے تحت 10 ہزار کروڑ روپے جاری کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ ایم ایل سی کویتا نے کہا کہ میں تمام اضلاع کا دورہ کروں گی اور عوامی مسائل سے واقفیت حاصل کرتے ہوئے اس کی یکسوئی کیلئے ہر ممکنہ کوشش کروں گی۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے جو بھی مسائل ہوں اس سے واقفیت حاصل کرتے ہوئے میں از خود بھی انہیں ایوان میں پہنچاؤں گی اور حکومت کو اس کی یکسوئی کیلئے مجبور کروں گی۔