مسلمانوں کی دُکانات کو بنایا نشانہ‘ ہندو فیملی ہوگئی بے گھر

,

   

ایسا بھی ہوتا ہے…
دہلی تشدد: دوسروں کو جلانے میں
اپنے بھی زد میں آگئے!

نئی دہلی ، 28 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) گوکل پوری کی ایک ہندو فیملی بے گھر ہوگئی ہے کیونکہ وہ ہجوم کے تشدد کا نشانہ بن گئے جو دراصل اُن کی رہائشی عمارت میں موجود بعض مسلمانوں کی دُکانات کو نشانہ بنانے کیلئے برپا کیا گیا تھا۔ چھ رکنی خاندان اب اپنے دن کے اوقات سڑکوں پر گھومتے ہوئے اور راتیں ایک پڑوسی کے مکان میں گزارنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ انھیں منگل کو سخت تکلیف پہنچانے والا تجربہ ہوا جب دو منزلہ عمارت کے گراؤنڈ فلور پر تین شاپس کو آگ لگا دی گئی۔ یہ دکانات مسلمانوں کی ہیں جو اس بلڈنگ میں نہیں رہتے ہیں۔ متاثرہ فیملی کے رکن 20 سالہ کرن جو روزانہ کی اُجرت پر کام کرتا ہے، اُس نے کہا کہ پیر اور منگل کو گوکل پوری میں بھگیرتی وہار کے پاس کی گلیوں اور سڑکوں میں ہجوم جمع ہوگیا تھا۔ انھوں نے منگل کی شام بھاری سنگباری شروع کردی۔ ’’میں میری 13 سالہ بہن کے ساتھ ہماری کرایہ پر دی گئی رہائش گاہ کے فرسٹ فلور پر تھا۔ مجھے گھر کے باہر شوروغل پر تجسس ہوا اور میں یہ دیکھنے دوڑا کہ کیا ہورہا ہے؟ مقامی افراد نے ہجوم کو روکنے کی کوشش کی لیکن انھوں نے مسلم کرایہ داروں کی تین دکانات نذر آتش کردیئے۔‘‘ یہ شاپس چھوٹی موٹی اشیاء کے بیوپاری، ٹی وی میکانک اور قینچی تیز کرنے والے شخص کی ہیں۔ آگے کے شعلے دکانات سے فرسٹ فلور تک پھیل گئے جہاں کرن اپنی فیملی کے ساتھ رہتا ہے۔ وہ اپنی بہن کو بچانے کیلئے تیزی سے سیڑھیوں کے ذریعے اوپر گیا۔ ’’میرے والدین جو تب گھر پر نہیں تھے، وہ بھی واپس آگئے اور ہم نے ضروری اشیاء اُٹھا کر ہماری زندگیاں بچانے وہاں سے دوڑ کر نکل گئے۔ آگ کے شعلے گراؤنڈ فلور سے پھیل کر فرسٹ فلور پر ہمارے کرایہ کے روم تک پھیل گئے۔‘‘ کرن کا بڑا بھائی آشیش سڑکوں پر بیوپار کرتا ہے۔ اُس نے کہا کہ ساری فیملی کو پڑوس میں پناہ لینا پڑا ، اور اب اسے مشکلات کا سامنا ہے۔ ’’ہم غریب لوگ ہیں۔ ہم میں سے کوئی بھی کام پر نہیں جاسکا ہے۔ ہم معمول کی صورتحال بحال ہونے کے منتظر ہیں۔ یہ مکان اب قابل رہائش نہیں ہے۔ ہمیں کہیں اور جانا پڑے گا۔‘‘ آشیش نے کہا کہ اُس کی فیملی اپنے کمروں میں داخل ہونے سے قاصر ہے کیونکہ آگ لگنے کے باعث اندر کا ماحول بہت گرم ہے۔ ’’ہم دن کا زیادہ تر وقت سڑکوں پر گزار رہے ہیں، اور رات میں پڑوسی کے گھر میں سو رہے ہیں۔ متاثرہ فیملی کے پڑوسی کشن نے کہا کہ مدد کیلئے پولیس کو کئی بار فون کیا گیا جبکہ فسادیوں نے منگل کی شام طوفان مچا رکھا تھا، لیکن کوئی مدد نہیں پہنچی۔ گزشتہ چند روز میں شمال مشرقی دہلی کے کئی حصوں میں پیش آئے تشدد نے 42 جانیں لے لی ہیں۔