جاناریڈی ناقابل بھروسہ ، ٹی آر ایس مسلمانوں کی ترقی کیلئے پابند عہد
حیدرآباد : ریاستی وزیر داخلہ محمد محمود علی نے تلنگانہ میں مسلمانوں کی پسماندگی کیلئے کانگریس کو ذمہ دار قرار دیا ۔ اقلیتو ں بالخصوص مسلمانوں کی ترقی و بہبود کیلئے ناگرجنا ساگر کے ضمنی انتخابات میں ٹی آر ایس کے امیدوار این بھگت کمار کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنانے کی مسلمانوں سے اپیل کی ۔ آج اسمبلی حلقہ ناگرجنا ساگر کے انومولا منڈل کے یاچارم اور کاشاوری گوڑہ میں منعقدہ اقلیتی اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے محمود علی نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے لمبے عرصہ تک ملک اور ریاست پر حکمرانی کی ہے لیکن وہ کام نہیں کئے جو چیف منسٹر کے سی آر نے 7سال میں کئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس پارٹی کی تشکیل سے قبل ہمارے آبا و اجداد بھی کانگریس کے وفادار تھے ، بڑی ایمانداری اور دیانتداری اور پابندی کے ساتھ کانگریس کا ساتھ دیتے رہے ہیں لیکن کانگریس پارٹی نے اس کا ناجائزہ فائدہ اٹھایا اور مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک تک محدود رکھا ان کی ترقی اور بہبود کیلئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے ۔ مگر علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد چیف منسٹر کے سی آر نے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی ترقی و بہبود کیلئے جو اقدامات کئے ہیں اس کی ملک بھر میں مثال نہیں ملتی ۔ لمبے عرصہ تک جانا ریڈی نے اسمبلی حلقہ ناگرجنا ساگر کی ایوان میں نمائندگی کی ، اہم وزارتو ں پر فائز رہے مگر اپنے حلقہ اسمبلی کی ترقی و بہبود کیلئے کوئی کام نہیں کیا ، انہیں دوبارہ ووٹ دینا حلقہ ا سمبلی ناگرجنا ساگر کو مزید پسماندہ بنانا ہے کیونکہ ریاست میں کانگریس پارٹی اقتدار میں نہیں ہے اور مستقبل میں بھی اقتدار میں آنے والی نہیں ہے اس لئے کانگریس کو ووٹ دینا ضائع کرنے کے مترادف ہے ۔ ریاست میں ٹی آر ایس اقتدار میں ہے مزید تین سال تک اقتدار میں رہے گی اور 2023ء میں دوبارہ کامیابی حاصل کرے گی ۔ اگر حلقہ کو ترقی دینا ہے تو ٹی آر ایس کو ووٹ دیں ۔ جانا ریڈی بھروسہ کے قابل نہیں ہے انہیں بار بار آزمانا وقت ضائع کرنے کے برابر ہے ۔