مسلمانوں کے اختلافات کے سبب سدی پیٹ تنظیم المساجد کی ساکھ متاثر

   

ذاتی مفادات نے قوم کو دو گروپوں میں تقسیم کردیا ، پولیس کی نگرانی میں نماز عیدالفطر کی ادائیگی ، اتحاد و اخلاص کے ساتھ تمام مسائل کا حل ضروری

سدی پیٹ /22مارچ(کلیم الرحمان کی رپورٹ) معاشرے کی مضبوطی اس کے اخلاقی اصولوں، باہمی احترام اور اجتماعی مفادات کے تحفظ میں مضمر ہوتی ہے۔ جب افراد اور گروہ اسلاف کی تعلیمات کو فراموش کرکے اپنی ضد، انا اور ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں تو اس کا لازمی نتیجہ سماجی انتشار اور باہمی اختلافات کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہی صورتحال آج سدی پیٹ کے مسلمانوں میں بھی دیکھی جا رہی ہے، جہاں انانیت اور گروہ بندی نے اخلاص، بھائی چارہ اور تعاون جیسے اعلیٰ اقدار کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ سدی پیٹ میں تنظیم المساجد ایک قدیم اور باوقار ادارہ ہے، جس کی بنیاد 1950 میں بزرگوں نے رکھی تھی۔ اس ادارے کا مقصد مسلکی اختلافات سے بالاتر ہوکر مسلمانوں کی فلاح و بہبود، دینی خدمات، مساجد و قبرستانوں کی نگہداشت، ائمہ و مؤذنین کی کفالت اور تجہیز و تکفین جیسے اہم امور کو منظم انداز میں انجام دینا تھا۔ بانیانِ تنظیم کی دوراندیشی، اخلاص اور اتحاد نے اس ادارے کو ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد پلیٹ فارم بنایا۔ تنظیم المساجد سدی پیٹ کے سابقہ صدور کی اپنی کوششوں، دوراندیشی صلاحیتوں، دلیرانہ فیصلے اور منظم اتحاد نے تنظیم المساجد سدی پیٹ کو مستحکم کردیا ہے۔ یوں تو ادارتی نظام میں تنقید برائے تعمیر ہمیشہ اصلاح کا کام کرتی ہے۔ تاہم، گزشتہ چند برسوں خصوصاً 2023 کے بعد، تنظیم المساجد کے انتظامی معاملات میں اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ انتخابات سیلیکشن و الیکشن کے نام پر عوام کو گمراہ کرنا، املاک پر قبضے کی کوششیں اور ذاتی مفادات کے لیے عدالتوں کا سہارا لینا، یہ سب ایسے عوامل ہیں جنہوں نے ادارے کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک مقامی عالم نے بھی اپنے منصب کے تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اختلافات کو ہوا دی، خود کو قوم کا رہبر کہنے والے بھی رہزن بنکر جمعہ کے خطبہ کے دوران ممبر رسول سے خود کے ہمنوائی گروپ کو حسینی اور مخالفین گروپ کو یزیدی بتاکر جلتی ہوئی مشعل میں تیل ڈالتے ہوئے قوم کو دو گروپوں میں تقسیم کرنے کا کام کئے ہیں جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ عید جیسے مقدس موقع پر بھی اتحاد ناممکن ہوا اور ہر سال عید کی نماز کے لیے مخصوص امام کی اقتداء سے انکار کیا۔ امسال صورتحال یہاں تک پہنچ گئی کہ ریاستی وقف بورڈ حیدرآباد کو مداخلت کرنا پڑی اور پولیس کی نگرانی میں عیدالفطر کی نماز ادا کی گئی۔ واضح رہے کہ سدی پیٹ میں علماء کرام مفتیان عظام و دیگر دینی علوم کے حامل اشخاص ہونے کے باوجود اختلاف نے انہے نااہل و ناقابل کی صف میں کھڑا کردیا ہے۔ جسکی وجہ سے ریاستی وقف بورڈ حیدرآباد نے ازخود کارروائی کرتے ہوئے مولانا محمد صابر پاشاہ صاحب وقف انسپکٹر متحدہ ضلع میدک کو بحثیت امام عیدگاہ مقرر کیا جبکہ وقف بورڈ کی ہدایت پر گورنمنٹ صدر قاضی ضلع سدی پیٹ مولانا محمد ظہیر الدین بابر نے صلوٰۃ التکبیر ادا کئے، مکمل انتظامات شیخ عمران حسین ملازم وقف بورڈ حیدرآباد دکن نے بخوبی انجام دئیے ہیں۔ تنظیم المساجد کی 76 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ عیدگاہ میں نماز کے انتظامات بیرونی ادارے کے سپرد کیے گئے، جو سدی پیٹ کے مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ اور قابلِ شرم ہے۔ وہ تنظیم المساجد جسکے بانیان نے مساجد، قبرستانوں املاک کو اوقاف میں ضم کئے بغیر متحد ہو کر تنظیم المساجد سدی پیٹ کی داغ بیل ڈالی تھی افسوس اسی وقف بورڈ کو مداخلت کرنے کی نوعیت پر تنظیم المساجد کو لا کھڑا کیا گیا۔ اس عمل پر مسلمانوں میں یہ محاورہ ’’بلی کے بھاگوں چھیکہ ٹوٹا‘‘ عام ہوا ہے۔ اس تمام صورتحال نے نہ صرف دینی اور سماجی ہم آہنگی کو متاثر کیا بلکہ فلاحی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہوئیں۔ سابق ایم ایل سی فاروق حسین کی کاوشوں سے جو زکوٰۃ کی اجناس ہزاروں بڑے تھیلوں میں حیدرآباد سے مستحقین تک پہنچتی تھیں، وہ بھی متاثر ہوئیں اور تقریباً 7000 غریب افراد اس سہولت سے محروم ہو گئے۔ یہ امر بھی قابلِ تشویش ہے کہ تنظیم کے اعلیٰ سطحی فیصلوں میں اب سنجیدہ، تعلیم یافتہ اور بااثر افراد کی کمی محسوس کی جا رہی ہے، جس کے باعث ادارے کی کارکردگی اور ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ چند غیر تعلیم یافتہ، سماجی لحاظ سے کم حیثیت افراد کا غلبہ بھی تنظیم المساجد کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیا ہے۔ سابق میں سپریم باڈی میں سنجیدہ تعلیم یافتہ افراد، قوم و ملت کا جذبہ رکھنے والے، سرکاری مشنری میں اثر و رسوخ رکھنے والے افراد تک محدود تھی افسوس کہ اس باڈی میں اب معیاری، فیصلہ کن افراد کی کمی باعث تشویش بنی ہوئی ہے۔ سدی پیٹ کے سنجیدہ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ان تمام مسائل کا حل صرف اور صرف اتحاد، سنجیدگی اور اخلاص میں مضمر ہے۔ سدی پیٹ کے باشعور مسلمانوں اور دونوں گروہوں کو چاہیے کہ وہ گروہ بندی، ضد اور انا کو ترک کرتے ہوئے تنظیم المساجد کے وقار کو بحال کریں اور اس کو مزید مستحکم بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف ماضی کی روایات کو زندہ رکھ سکتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط اور متحد معاشرہ بھی تشکیل دے سکتا ہے۔ گروپ بندی،ہٹ دھرمی، ضد، انانیت اور آپسی اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے تنظیم المساجد سدی پیٹ کے وقار کو برقرار رکھیں اور مزید مستحکم کرنے کی کوشش کریں اور ملت کی فلاح و بہبودی کے لئے آگے آئیں۔ ہر سال کی طرح امسال بھی ہریش راؤ ایم ایل اے، فاروق حسین سابق ایم ایل سی نے اقبال مینار چوراہے پر عوام سے بغلگیر ہوکر مبارکباد پیش کی وہیں کانگریس کے قائدین کلیم، راشد و دیگر نے بھی فرداً فرداً ملاقاتیں کیں۔