مسلمانوں کے اقلیتی موقف کو ختم کیا جائے

   

ملک میں بڑھتی آبادی کو روکنے عنقریب پارلیمنٹ میں قانون کی پیشکشی: ساکشی مہاراج

کانپور : بھارتیہ جنتاپارٹی کے رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج نے جو اپنے متنازعہ ریمارکس کیلئے جانے جاتے ہیں کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد پاکستان میں رہنے والے مسلمانوں سے زیادہ ہے ۔ اس لئے ہندوستانی مسلمانوں کو دیئے گئے اقلیت کا موقف ہٹادیا جانا چاہئیے ۔ اناؤ سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں پاکستان سے زیادہ مسلمانوں کی آبادی ہے ۔ لہذا یہاں پر مسلمانوں کو اقلیتی طبقہ قرار دینا غلط ہے ۔ ان کا اقلیتی موقف فوری ختم کیا جانا چاہئیے ۔ مسلمانوں کو چاہئیے کہ وہ خود کو ہندوؤں کے بھائی سمجھیں اور اس ملک میں ہندوؤں کے ساتھ مل کر رہیں ۔ ملک کی بڑھتی آبادی پر انہوں نے کہا کہ آبادی پر قابو پانے کیلئے بہت جلد پارلیمنٹ میں قانون پیش کیا جائے گا ۔ جن کے پاس 2 سے زیادہ بچے ہوں گے انہیں انتخابی مقابلہ سے محروم رکھا جائے گا ۔ بی جے پی ایم پی نے مزید کہا کہ زرعی قوانین کیخلاف کسانوں کے جاریہ احتجاج پر اپوزیشن پارٹیاں سیاست کررہی ہیں ۔ حکومت زرعی قوانین کے بارے میں بات چیت کرنے کیلئے تیار ہیں ۔ انہوں نے کانگریس پر تنقید کی اور کہا کہ رام مندر کی طرح کانگریس اور دیگر سیاسی پارٹیاں کو سپریم کورٹ میں زرعی بل پر اپیل دائر کرنا چاہئیے ۔ یہ پارٹیاں معصوم کسانوں کے کندھوں پر بندوق رکھ کر گولی چلارہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کا مسئلہ حل کرنے کیلئے مودی حکومت تیار ہے ۔