مسلمانوں کے حقوق کیلئے نمائندگیوں کو عوامی تحریک بنانے کی ضرو رت

   

محبوب نگر میںجشن 200 سالہ اردو صحافت سے جناب عامر علی خاں کا خطاب ،ترقیاتی کاموں میں کوئی کسر باقی نہیں رکھیں گے : سرینواس گوڑ

محبوب نگر :جھوٹ سیاستداں بولتے ہیں ۔ اخبارات جھوٹ نہیں بولتے ۔ سیاستداں چاہے کانگریس کے ہوں یا ٹی آر ایس یا اور کسی جماعت کے ، سچ نہیں بولتے ، وعدوں پر عمل نہیں کرتے ۔ اردو اخبارات جب حالات کی عکاسی کرتے ہیں تو پھر سیاستداں مخالفت پر اتر آتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار جناب عامر علی خاں نیوز ایڈیٹر سیاست نے آج دوپہر مستقر محبوب نگر کے علیس کنونشن میں جشن دو سو سالہ اردو صحافت میں اخبارات کے نامہ نگاروں (پرنٹ والکٹرانک میڈیا) میں ایوارڈس ، سپاس نامہ و شال پوشی کرتے ہوئے کیا وہ بحیثیت مہمان خصوص مخاطب تھے ۔ جشن کا اہتمام تلنگانہ اردو جرنلسٹ فور م متحدہ ضلع محبوب نگر نے کیا تھا ۔ تقریب کی صدارت صدر فورم محمد عبدالرافع ذکی نے کی جبکہ مولانا محمد محسن پاشاہ قادری انصاری نقشبندی نے نظامت کے فرائض انجام دیئے ۔ نیوز ایڈیٹر سیاست نے اردو کے صحافیوں کو مشورہ دیا کہ وہ بامقصد صحافت کو اپنائیں ۔ عوامی مسائل بالخصوص مظلوم اقلیتوں کے مسائل کو بے باک اور بے خوف ہوکر ارباب مجاز کے سامنے لائیں ۔ انہوں نے کہا کہ اکثر مسلم نمائندگیاں صرف عیدین ، اہم راتوں میں روشنی ، قبرستان کی حصاربندی اور صفائی تک ہی محدود رہتی ہیں ۔ اب نمائندگیوں کا دائرہ وسیع کرنا ہوگا ۔ تعلیمی میدان میں ہم کافی پسماندہ ہیں اور یہی پسماندگی ہماری معاشی پسماندگی کا اہم سبب بن رہی ہے ۔ مسلمانوں بالخصوص اضلاع کے مسلمانوں کے کئی مسائل ہیں ۔ تعلیمی ترقی وسائل ، بجٹ میں اضافہ ، روزگار یہ ہماری قوم کے سلگتے ہوئے مسائل ہیں ۔ اس کیلئے عوامی تحریک ضروری ہے ۔ آج آپ گورنمنٹ کے چلانے میں اہم رول ادا کرتے ہیں سبھی ٹیکس ادا کرتے ہیں تو آپ کو حق ہے کہ بنیادی مسائل کی یکسوئی کیلئے حکومت کو جھنجوڑیں ۔ نیوز ایڈیٹر سیاست نے کہا کہ ریاست میں کالجس کی کثرت ہے بالخصوص انجنیئرنگ کالجس سے ہزاروں طلباء فارغ ہورہے ہیں تو انہیں روزگار کون دے گا ؟ روزگار کیلئے فارغ طلباء آئندہ پریشان ہوں گے اور اپنی قابلیت کے لحاظ سے مشاہرہ نہ ملنے پر گھروں میں بیٹھ جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتیں اپنے بجٹ میں اضافہ کیلئے متعلقہ وزراء اور کارپوریشن کے چیرمنوں پر دباؤ ڈالیں ۔ نیوز ایڈیٹر سیاست نے حالیہ واقعہ کا ذکر کیا کہ گولڈ لون کیلئے 13 درخواستیں کسی جگہ آئیں تھیں انہوں نے جب واقفیت حاصل کی تو معلوم ہوا کہ 6 درخواستیں اولاد کی تعلیمی خرچ نہ ہونے سے گولڈ لون کیلئے آئی ہیں ۔ انہوں نے اقلیتی قائدین کو مشورہ دیا کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ فنی تربیت کے مراکز قائم کریں تاکہ تعلیمیافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ خود کفیل بھی بن جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کی تاریخ سے واضح ہے کہ ہر 10 سال میں ایک بڑا فساد کروایا جاتا تھا مرکزی حکومت کی طرف سے ہماری معیشت کو برباد کرنے کی منصوبہ بندی کی جاتی رہی ۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ مسلمان اب باشعور ہوجائیں ۔ نمازوں کی پابندی اور روزانہ قرآن مجید کا ایک صفحہ مع ترجمہ ضرور پڑھیں ۔ مذہب سے دوری تباہی کا باعث ہے اور مذہب کے مطالعہ کیلئے اردو سیکھنا لازمی ہے ۔ ریاستی وزیر وی سرینواس گوڑ جو اس پروگرام میں شرکت کیلئے حیدرآباد سے خاص طور پر آئے تھے انہوں نے ماضی کی حکومتوں اور ٹی آر ایس حکومت کے ترقیاتی اقدامات کا تفصیلی موازنہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے جرنلسٹ ویلفیر کیلئے 100 کروڑ کا فنڈ مختص کیا جو ملک بھر میں ایک مثال ہے ۔ گروپ I امتحانات کیلئے حکومت نے اسٹڈی میٹریل اردو میں فراہم کیا جو سیکولر ہونے کا بھی مضبوط ثبوت ہے ۔ محبوبنگر میں 6 ریذیڈنشیل اسکولس ایک جونیر کالج ، 100 کروڑ کے صرفہ سے عمارت کی تعمیر ، مساجد ، درگاہوں ، منادر اور چرچ کیلئے رقومات کی منظوری ، سی ایم ریلیف فنڈ سے امداد مستحقین کیلئے وظائف ، 70 سال پہلے کا تلنگانہ اور آج کا تلنگانہ کیسا ہے ۔ علحدہ تلنگانہ کے قیام پر اندیشے غلط ثابت ہوچکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی کاموں میں وہ کوئی کسر باقی نہیں رکھیں گے ۔ محمد امتیاز اسحق چیرمین ریاستی مائناریٹیز فینانس کارپوریشن نے بھی حکومت کے ترقیاتی کاموں اور اردو دوستی کی مثالیں پیش کیں ۔ انہوں نے حکومت کی طرف سے شائع کردہ گروپ I کیلئے اردو اسٹیڈی میٹریل (کتب) کی رونمائی کی ۔ اس کے علاوہ عبدالسمیع ، مقصود بن احمد ذاکر ایڈوکیٹ ، بابر شیخ ، اطہر معین ، اشوک کمار ، بنڈی وجئے کمار ، وینکٹیشورلو (اسسٹنٹ ڈائرکٹر) آئی اینڈ پی آر ، اکبر باشاہ ، میر خالد علی ، عبدالہادی ایڈوکیٹ ، صمد خان ، محسن خان و دیگر نے بھی مخاطب کیا ۔ اس موقع پر میونسپل چیرمین نرسمہلو ، ڈی ایس پی مہیش ، خواجہ فیاض الدین انور پاشاہ ، چچاپالموری ، حافظ ادریس ، قاضی غوث محی الدین صدر قاضی ، وحید الدین این آر آئی ، معز الدین قادری ، عبدالصمد (علیس کنونشن) ، سید احمد امیر خاں ایڈیٹر انچیف رہنمائے دکن ، سی نظام پاشاہ چیرمین ڈی سی سی بی ، حافظ عظمت علی شاہ و دیگر موجود تھے ۔ اس موقع پر متحدہ ضلع محبوب نگر کے تمام اردو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں کو نیوز ایڈیٹر سیاست عامر علی خاں ، اردو جرنلسٹ فورم کے صدر محمد ذکی اورجنرل سکریٹری مولانا محسن پاشاہ قادری ، امتیاز اسحق چیرمین مائناریٹیز فینانس کارپوریشن کے ہاتھوں سپاس نامہ ، ایوارڈ اور شال پوشی کی گئی ۔ جن میں قابل ذکر محمد عبدالمجیب اسٹاف رپورٹر سیاست ، محمد عبدالحلیم امجد ٹاؤن رپورٹر ، حافظ منصور علی خان نامہ نگار سیاست شاد نگر ، مولانا عبدالقوی حسامی مکتھل اور سینکڑوں صحافی شامل تھے ۔