مسلمانوں کے خلاف زہر اور میڈیا کا جھوٹ

   

پروفیسر اپوروانند
ملک میں فرقہ پرستی کس قدر سرائیت کر گئی ہے اس کا اندازہ مختلف ریاستوں میں پیش آرہے عجیب و غریب بلکہ ناقابل تصور واقعات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے اور ہمارے ذہنوں میں جو کئی ایک سوالات اٹھتے ہیں ان میں سے ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا ہندو سماج نفرت میں اس قدر آگے بڑھ چکا ہے کہ وہ مسلمانوں کی دشمنی میں خود اپنے بچوں کی قربانی دینے انہیں موت کے منہ میں ڈھکیلنے کیلئے تیار ہے اور اگر اپنے بچوں کی زندگیوں کو خطرہ میں ڈال کر اس سے مسلمانوں کو ہراساں و پریشان کرنے کا کوئی بہانہ اسے ملتا ہو۔ مثال کے طور پر کرناٹک کے ایک سرکاری اسکول میں پیش آیا واقعہ یقینا دل دہلا دینے والا ہے جہاں صرف اور صرف ایک مسلم ہیڈماسٹر کو ہٹانے چند فرقہ پرستوں نے پانی کی ٹانکی میں زہر ملادیا تاکہ طلباء اس ٹانکی کا پانی پئیں، ان کی زندگیاں خطرہ میں پڑجائیں اور اس بہانے سے مسلم ہیڈماسٹر کو پھنسا کر صرف اسکول سے ہی نہیں ملازمت سے بھی برخاست کروایا جائے۔ افسوس اس بات پر ہے کہ جنوبی ریاست کرناٹک میں پیش آیا واقعہ دل دہلا دینے والا ہے لیکن ہمارے معاشرہ نے اسے بری طرح نظرانداز کردیا ۔اب عوام سے ہی یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ کیا آپ اُس کنویں اُس باؤلی میں زہر ڈال دیں گے جس کے بارے میں آپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ آپ کے بچے اس کنویں اور باؤلی سے پانی پیتے ہیں ہاں آپ اس کنویں یا باؤلی کے پانی میں زہر اس لئے ملا رہے ہیں کہ اس کا الزام اپنے پڑوسی پر عائد کرکے اسے معاشرہ میں بدنام کیا جائے یا اسے عبرت ناک سزاء دلائی جاسکتی ہے۔ اسی تناظر میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا اپنے بچوں سے محبت کا جذبہ اہم ہے یا پڑوسی سے نفرت کا جذبہ جسے آپ نے قومی جذبہ بنانے کی کوشش کی ہے وہ اہم ہے؟ واضح رہے کہ یہ سوال یا سوالات پچھلے چند دنوں سے ہمارا مسلسل تعاقب کررہے ہیں اور ہمارے ذہن میں کرناٹک کے اس اسکول کا واقعہ بار بار عود کر آرہا ہے جس میں ایک مسلم ہیڈماسٹر کو بدنام کرکے اسے ہٹانے کیلئے کچھ لوگوں نے اسکول کے پانی میں زہر ملادیا۔ ان لوگوں نے یہ نہیں سوچا کہ زہر ملا ہوا پانی کوئی اور نہیں بلکہ خود ان کے بچے پئیں گے۔ اس طرح کی گھناونی بلکہ انسانیت سے گری حرکت ہندوتوا تنظیم رام سینا کے کارکنوں نے کی۔ ان لوگوں نے اسکول کے پانی میں زہر ملادیا یہ سوچ کرکے اس کا سارا الزام اسکول ہیڈماسٹر پر آئے گا اور وہ پھنس جائے گا اسے سزا ہوگی۔ آپ کو بتادیں کہ یہ واقعہ کرناٹک کے ضلع بیلگاوی کے ایک گاؤں ہلی ہتی کے اسکول میں پیش آیا۔ شری رام سینا کے ایک لیڈر ساگر پاٹل اور اس کے دو دوستوں کی اسکول کی ٹانکی میں کیڑے مار دوا ملانے کے الزام میں گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ واقعہ دراصل کچھ اس طرح ہے ساگر پاٹل نے اپنے دوست کرشنا کو بلیک میل کرتے ہوئے بتایا کہ وہ دوسری ذات کی عورت کے ساتھ اس (کرشنا) کے ناجائز تعلقات کے بارے میں جانتا ہے اور وہ یہ راز گاؤں والوں کے سامنے فاش کردے گا۔ اس بلیک میلنگ سے ڈر کر کرشنا نے اپنے ایک دوست ماکن گوڑا پاٹل کے ساتھ جاکر کیڑے مار دوا خریدی اور دونوں نے اس اسکول کے ایک طالب علم کو چاکلیٹس دیئے، پانچ سو روپئے کی رقم دی اور کیڑے مار دوا کو پانی کی ٹانکی میں ڈالنے کیلئے کہا یعنی دونوں نے بچے کو لالچ دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جن بچوں نے پانی پیا ان میں سے کچھ بیمار پڑ گئے۔ تحقیقات پر پانی کی ٹانکی کے قریب ایک کیڑے مار دوا کی ایک بوتل پڑی ملی جس میں کچھ دوا باقی تھی۔ بچے تو بچے ہوتے ہیں من کے سچے ہوتے ہیں جس بچے نے پانی میں کیڑے مار دوا ڈالی تھی اس نے صاف صاف بتادیا کہ اسے یہ بوتل کس نے دی اور کیسے اسے پانی کی ٹانک میں ڈالنے کیلئے کہا۔ اچھی بات یہ ہوئی کہ اس واقعہ میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔ اب یہ لوگ یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ ان کا مقصد بچوں کی زندگیوں کا خاتمہ کرنا نہیں تھا بلکہ مسلم ہیڈماسٹر کو بدنام کرکے اسے چھوٹے مقدمہ میں پھنسا کر سزا دلانا تھا اور ان کیلئے یہ کام نیک کام تھا، ان کے ارادے نیک تھے یہ اور بات ہے کہ ان کا طریقہ کچھ غلط رہا ہو۔ ویسے بھی کسی مسلمان کو کسی نہ کسی طرح ہراساں و پریشان کرنے سے بڑھ کر اور مذہبی کام کیا ہوسکتا ہے؟ اور کیا ہمارے مذہبی کتب میں نہیں بتایا گیا کہ بھگوان کرشن نے بھی اپنے کٹر دشمنوں کو ناکامی سے دوچار کرنے ان پر فتح پانے کیلئے فریب کا سہارا نہیں لیا تھا؟ بہرحال کرناٹک پولیس نے رام سینا کے ان کارکنوں کو بچوں کی زندگیاں خطرہ میں ڈالنے کے الزام میں گرفتار کرلیا اور امید ہے کہ پولیس اس انداز میں تحقیقات کرے گی کہ وہ مالیگاؤں دہشت گردانہ حملہ کے ملزمین کی طرح قانون کی پکڑ سے بچ نہیں پائیں گے۔ عام طور پر یہی دیکھا گیا پولیس اور عدالتیں بھی ایسے واقعات میں کچھ نرمی کا مظاہرہ کرتی ہیں جن میں ملزمین ہندو ہوتے ہیں اسکی وجہ ہے کہ کہیں نہ کہیں انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ’’غریب‘‘ لوگ قوم کیلئے ہی کام کررہے تھے۔ اس واقعہ کے کوریج میں میڈیا نے انتہائی معاندانہ کردار ادا کیا۔ تعصب و جانبداری کا بدترین مظاہرہ کیا۔ اگر واقعہ کے کردار مختلف ہوتے تو وہ اس واقعہ پر گھنٹوں نہیں بلکہ کئی دنوں تک چیختے چلاتے رہتا اور اسے قومی خبر میں تبدیل کردیتا۔ اگر دیکھا جائے تو ان غنڈوں کا مقصد اسکول کے مسلم ہیڈماسٹر کو ہراساں و پریشان کرنا تھا جس میں وہ بری طرح ناکام رہے اور وہ بھی پولیس کی بروقت کارروائی کے نتیجہ میں اگر پولیس وہاں اپنا فرض ادا کرنے میں ناکام ہوجاتی تو پھر بیچارہ ہیڈماسٹر کا برا حال ہوتا۔ اس واقعہ سے میڈیا کا انجان ہوجانا یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ میڈیا نے غنڈوں کی اس خطرناک حرکت پر پردہ کیوں ڈالا۔ میڈیا کی خاموشی سے تو یہی ظاہر ہورہا ہے کہ اسے ہمارے ملک اور عوام کی بھلائی اور ترقی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ میڈیا کی خاموشی سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کس قدر اخلاقی پستی کا شکار ہوگیا ہے۔ ساتھ ہی ہمیں ہمارے معاشرہ کے کھوکھلے پن کا بھی یہ واقعہ احساس دلاتا ہے۔ میڈیا نے تو خود کو مسلم مخالف پروپگنڈہ کیلئے وقف کردیا ہے وہ ہندوتوا تنظیموں کے حقیقی چہروں کو بے نقاب کرنے میں کسی قسم کی دلچسپی نہیں رکھتا کیونکہ وہ خود ہندوتوا تنظیموں کی توسیع شدہ شکل میں تبدیل ہوچکا ہے۔ آپ سب نے خود دیکھا ہوگا کہ مذکورہ دل دہلادینے والے واقعہ نے ہر محب وطن اور انسانیت نواز ہندوستانی کو پریشان کیا لیکن میڈیا نے (بڑی بے شرمی کے ساتھ) تعصب و جانبداری کا مظاہرہ کیا۔ یہ وہی میڈیا ہے جس نے 2019ء کی کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران ایک جھوٹی خبر کے ذریعہ معاشرہ میں بے چینی پیدا کی اور بے بنیاد طور پر یہ خبر پھیلائی کہ تبلیغی جماعت کے کارکن ملک میں کورونا وائرس پھیلانے کی سازش رچ رہے ہیں اور ان کی وجہ سے کورونا کی وبا پھیل رہی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ایسی خبریں بھی نشر کی گئیں بلکہ پھیلائی گئیں کہ مسلمان پھیری والے ترکاریوں، میووں اور کھانے پینے کی چیزوں پر تھوکتے ہیں اور ان کا وہ جھوٹ اس قدر پھیلا کا کہ ہزاروں مسلمانوں کا روزگار چھن گیا۔ کیا اس جھوٹ پر دروغ گو میڈیا کے خلاف کوئی مقدمہ درج کیا گیا؟ شکر ہے کہ عدالتوں میں مسلمانوں کے خلاف عائد الزامات نہ صرف جھوٹے ثابت ہوئے بلکہ ان کارکنوں کو باعزت بری بھی کردیا گیا۔ افسوس کہ مرکزی حکومت، حکومت دہلی کے عہدیداروں اور ٹی وی چینلوں کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے کے بارے میں سوچا تک نہیں گیا آخر کیوں؟ کیا جرم کا ارتکاب کرنے والے مجرمین کو صرف اس لئے چھوڑ دیا جائے کہ وہ آپ کے حامی ہیں اور ایک مخصوص مذہب کے ماننے والے ہیں۔ غرض ملک میں ہندوؤں میں مسلمانوں کے خلاف شک اور نفرت پھیلانے کی خاطر ان لوگوں نے جھوٹ کے استعمال کو جائز مان لیا ہے جس سے ملک کو نقصان کے سواء کچھ نہیں مل سکتا ۔