کیرالا میں ہاتھی کے فوت ہونے پر مینکا گاندھی ایم پی کی فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش
حیدرآباد۔4جون(سیا ست نیوز) مسلمان کورونا سے گرے ہاتھی میں اٹکے! ہندستانی مسلمانوں کو ملک کی نامور جانوروں کے حقوق کے تحفظ کی علمبردار انسانوں کی جانب سے منتخب کردہ بھارتیہ جنتا پارٹی رکن پارلیمنٹ مینکا گاندھی نے کیرالہ میں ہاتھی کی ہلاکت کو مسلمانوں سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہوئے ملک میں ایک مرتبہ پھر سے زہر گھولنے کی کوشش کی ہے جبکہ کورونا وائرس کی وباء کے دوران ملک بھر میں الزامات کا سامنا کرنے کے باوجود عوام کی خدمت میں مصروف سماجی تنظیموں اور کارکنوں میں مسلمانوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ملک میں ہونے والے کسی بھی واقعہ کو مسلمانوں سے جوڑتے ہوئے اسے فرقہ وارانہ رنگ دینا معمول بنتا جا رہاہے اور اس صورتحال پر مسلمانوں کی جانب سے اختیار کئے جانے والے موقف سے ان فرقہ وارانہ عناصر کی حوصلہ افزائی ہونے لگی ہے جو کہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو درہم برہم کرنے کے خواہشمند ہیں اور ان کی سیاست کا انحصار ہی فرقہ واریت پر ہے۔ہندوستان میں گذشتہ 6برسوں کے دوران مسلمانوں کو مختلف بہانوں سے ہراساں کیا جاتا رہا ہے بلکہ کئی مسلم نوجوانوں کو گاؤکشی کے نام پر قتل کردیا گیا۔ لو جہاد‘ گاؤکشی کے نام پر ہراسانی کے بعد سی اے اے ‘ این آر سی اور این پی آر کے نام پر کی گئی ہراسانی کے بعد جب کورونا وائرس کی وباء نے ملک میں جڑیں مضبوط کرنی شروع کردی تو اس کیلئے بھی مسلمانو ںکو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے تبلیغی جماعت کو نشانہ بنایا جانے لگا اور کہا جاتا رہا کہ ملک میں کورونا وائرس پھیلانے کیلئے تبلیغی جماعت ذمہ دار ہے اور اس الزام کے ساتھ ملک بھر میں مسلمانوں کو ہراسانی کے واقعات پیش آئے اور کئی علاقوں میں ٹھیلہ بنڈی تاجرین کو ہراساں کیا جانے لگا اور غیر مسلم علاقو ںسے انہیں نکال دیا گیا اور بعض مقامات پران پر حملہ بھی کیا گیا۔کیرالہ کے ضلع پالکڑ میں ہلاک ہونے والی ہاتھی جو کہ حاملہ تھی انناس کھانے سے فوت ہوگئی اور انناس میں رکھے گئے پٹاخے اس کے منہ میں پھٹ پڑنے کی ابتدائی اطلاعات کے سلسلہ میں محکمہ جنگلات کا کہنا ہے کہ ہاتھی کو علاقہ کے عوام یا کسانوں نے جان بوجھ کرہلاک نہیں کیا ہے بلکہ ان کا گمان ہے کہ جنگلی بھالو اور ریچھ سے فصلوں کو محفوظ رکھنے کیلئے کسانوں کی جانب سے رکھے جانے والے پھل کو ہاتھی نے غلطی سے کھا لیا جس کی وجہ سے اس کی ہلاکت واقع ہوئی ہے۔ 27 مئی کو پیش آنے والے اس واقع کی کئی گوشوں کی جنب سے مذمت کی جانے لگی تھی لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کی سابق وزیر اور موجودہ رکن پارلیمنٹ مینکا گاندھی کو اس میں بھی فرقہ وارنہ رنگ نظر آنے لگا ہے ۔ جانوروں کے حقوق کیلئے جدوجہد کرنے والی مینکا گاندھی کو اس بات کا بھی علم نہیں کہ کس مقام پر ہاتھی کی ہلاکت کا واقعہ پیش آیا ہے لیکن انہوں نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اقلیتی غالب آبادی والے ضلع ملاپورم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہہ دیا کہ یہ ضلع اس طرح کے واقعات کیلئے معروف ہے اور یہاں لوگ سڑکوں پر زہر ڈال دیتے ہیں تاکہ بیک وقت کئی پرندوں اور کتوں کو ہلاک کیا جاسکے ۔ مینکا گاندھی کے اس بیان کی کئی گوشوں سے مذمت کی جا رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ مینکا گاندھی ہاتھی کی ہلاکت کے واقعہ کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کررہی ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ مینکا گاندھی نے ایسا پہلی مرتبہ کیا ہے بلکہ سابق میں انہوں نے مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ان لوگوں کو گائے ‘ اونٹ بھینس اور بکرے عید الاضحی کے نام پر ذبح کرنے کی کھلی چھوٹ دی جاتی ہے۔ اس مرتبہ انہوں نے اپنی کم علمی کا بھی مظاہر ہ کیا اور یہ ثابت کیا ہے کہ وہ جانوروں کے حقوق کے تحفظ کیلئے کس حد تک سنجیدہ ہیں کیونکہ کیرالہ کے کس مقام پر ہاتھی کی ہلاکت ہوئی ہے اس سے بھی وہ واقف نہیں ہیں اور اقلیتی غالب آبادی والے ضلع کو نشانہ بنانے لگ گئیں۔ مسلمانو ںکو اس صورتحال سے چوکنا ہونے اور چوکسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کیلئے اس طرح کی کئی سازشیں تیار کی جارہی ہیں اور بدنام کیا جا رہا ہے۔