مسلمانوں کے عائلی تنازعات کی عدالتوں کے باہر یکسوئی کی ضرورت

   

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم سے ملاقات، کونسلنگ سنٹر کی ستائش
حیدرآباد۔/14 ستمبر، ( سیاست نیوز) مسلمانوں کے عائلی تنازعات کی یکسوئی کیلئے تلنگانہ وقف بورڈ میں قائم کردہ کونسلنگ سنٹر کو مستحکم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے کارگذار جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے دیگر علماء اور خواتین کی تنظیموں کے نمائندوں کے ہمراہ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم سے ملاقات کی اور وقف بورڈ کے کونسلنگ سنٹر کی کارکردگی کے بارے میں معلومات حاصل کی۔ محمد سلیم نے بتایا کہ میریج کونسلنگ سنٹر میں فریقین کو طلب کرتے ہوئے عدالتوں اور پولیس اسٹیشنوں کے باہر تنازعات کی خوشگوار یکسوئی کا کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کونسلنگ سنٹر میں سماجی کارکنوں کے علاوہ وکلاء کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جو بہتر انداز میں گھریلو اور عائلی تنازعات کی یکسوئی کا کام انجام دے رہے ہیں۔ محمد سلیم نے کہا کہ حکومت کے تعاون سے کونسلنگ سنٹر کو مزید مستحکم کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کونسلنگ سنٹر میں خدمات انجام دینے والے افراد کو بہتر سہولتوں کی فراہمی کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں دینی تعلیم کی کمی کے نتیجہ میں گھریلو تنازعات میں اضافہ ہورہا ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ شرعی اعتبار سے عدالتوں کے بجائے کونسلنگ کے ذریعہ تنازعات کو حل کرانے کی ترغیب دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر مسلم جماعتوں اور تنظیموں کو اس سلسلہ میں شعور بیداری مہم چلانی چاہیئے اس سلسلہ میں وقف بورڈ ہر ممکن تعاون کیلئے تیار ہے۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے وقف بورڈ بالخصوص کونسلنگ سنٹر کی کارکردگی کی ستائش کی اور کہا کہ موجودہ ماحول میں مسلمانوں کو شرعی اعتبار سے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیئے تاکہ عدالتوں میں برسوں تک انصاف کیلئے دوڑ دھوپ کرنے سے بچ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ نے اصلاح معاشرہ کی مہم میں شدت پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ نکاح، طلاق اور دیگر عائلی مسائل کا شریعت کی روشنی میں حل تلاش کیا جاسکے۔ انہوں نے وقف بورڈ کو کونسلنگ سنٹر کے استحکام کیلئے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ اس موقع پر تلنگانہ وقف بورڈ کے آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی خواجہ معین الدین ڈی ایس پی اور دیگر عہدیدار موجود تھے۔ R