تلنگانہ ہائی کورٹ میں بی جے پی کی درخواست پر حکم التواء
حیدرآباد۔7۔جنوری(سیاست نیوز) مسلمانوں کے قبرستان کے لئے مختص کی گئی اراضی پر عدالت نے حکم التواء جاری کرتے ہوئے اس اراضی پر تدفین کے عمل کو روک دیا ۔ تلنگانہ ہائی کورٹ میں داخل کی گئی رٹ پٹیشن نمبر 699/2026 کی سماعت کے بعد جسٹس ای وی وینوگوپال نے حکم التواء جاری کردیا۔جوبلی ہلز میں مسلمانوں کے لئے قبرستان کی اراضی کی تخصیص کے معاملہ میں کئی قائدین نے عجلت میں کئے گئے فیصلوں اور اقدامات پر اب تک 3مرتبہ اپنی گلپوشی کرواچکے ہیں لیکن نتائج اب بھی صفر ہی ہیں۔ بورہ بنڈہ‘ یوسف گوڑہ قبرستان معاملہ میں بھی عجلت پسندی میں کئے گئے اقدامات کے نتیجہ میں یہ معاملہ بھی اب عدالتی رسہ کشی کا شکار ہوچکا ہے۔ حکومت تلنگانہ نے جوبلی ہلزضمنی انتخابات سے قبل ایرہ گڈہ قبرستان کے لئے راستہ کی کشادگی کے اقدامات کے ساتھ ہی ہوئی ہنگامہ آرائی اور عدالت سے رجوع ہونے کے بعد جاری کئے جانے والے حکم التواء سے ایرہ گڈہ قبرستان کا معاملہ قانونی رسہ کشی کا شکار ہوگیا تھا اور اب بورہ بنڈہ یوسف گوڑہ میں 30ڈسمبر 2025 کو مختص کی گئی ایک ایکڑ اراضی پرعدالت کے حکم التواء کے بعد یہ اراضی بھی قانونی رسہ کشی کا شکار ہوچکی ہے۔ ایرہ گڈہ قبرستان کے راستہ کی کشادگی سے قبل الکا پور میں موقوفہ اراضی کو تدفین کے لئے حوالہ کرنے کے اقدامات کئے جارہے تھے جسے ملٹری حکام کی مداخلت کے بعد روک دیا گیا۔ جوبلی ہلز کے مسلمانوں کے لئے قبرستان کے مسئلہ کے متعلق چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے 31ڈسمبر 2025 سے قبل اراضی کی تخصیص کو یقینی بنانے کا اعلان کیا تھا اور 30 ڈسمبر 2025 کو ضلع کلکٹر نے مسلم قبرستان کے لئے یوسف گوڑہ میں پیلی گنبد سے متصل ایک ایکڑ اراضی حوالہ کرنے کے احکامات جاری کئے تھے جبکہ مذکورہ اراضی پرپہلے سے ہی ایک مقدمہ تلنگانہ ہائی کورٹ میں جاری ہے جس کا نمبر 7099/2014 ہے اور ضلع کلکٹر نے 30ڈسمبر2025 کو جو احکامات نمبر E2-4575/2025 جاری کئے ہیں ان میں شق نمبر 3یہ واضح کرتی ہے کہ قبرستان کے لئے حوالہ کی جانے والی اراضی کی وقف بورڈ کو منتقلی اراضی سے متعلق مقدمہ کی یکسوئی پر جاری کئے جانے والے قطعی فیصلہ پر منحصر ہوگی۔ ضلع کلکٹر کے ان احکامات کو بھارتیہ جنتا پارٹی نے عدالت میں چیالنج کرتے ہوئے اس پر حکم التواء حاصل کرلیا ہے اس طرح مجموعی اعتبار سے حلقہ اسمبلی جوبلی ہلز کے مسلمانوں کے لئے قبرستان کا مسئلہ اب بھی جوں کا توں برقرار ہے۔تلنگانہ ہائی کورٹ درخواست گذار نے پرنسپل سیکریٹری محکمہ مال‘ سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود‘ ضلع کلکٹر حیدرآباد‘ چیف کمشنر سی سی ایل اے‘ کمشنر پولیس حیدرآباد‘ آرڈی او سکندرآباد‘ تحصیلدار خیریت آباد منڈل‘ کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد‘ چیف اکزیکیٹیو آفیسر تلنگانہ وقف بورڈ ‘ ڈی سی پی ویسٹ زون کو بھی فریق بنایا ہے جبکہ بورہ بنڈہ میں پیلی گنبد سے متصل اراضی کی تخصیص کے سلسلہ میں منعقد ہونے والے اجلاسوں میں وقف بورڈ کے کسی بھی عہدیدار یا ذمہ دار نے شرکت نہیں کی لیکن اب مقدمہ کا سامنا وقف بورڈ کو بھی کرنا پڑے گا اور اس اراضی کے لئے جو پہلے سے ہی تنازعہ کا شکار تھی ۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے 1ایکڑ قبرستان کی اراضی کی تخصیص کے معاملہ میں دائر کی گئی درخواست 699/2026 پر حکم التواء جاری کرتے ہوئے اسے پہلے سے جاری مقدمہ نمبر 7099/2014 سے منسلک کرتے ہوئے پیش کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔3
