صدر شفا خانہ میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا وعدہ تاحال پورا نہیں ہوا
حیدرآباد۔6۔ستمبر۔(سیاست نیوز) حکومت کو مسلمانوں کے مسائل اور پرانے شہر کے مسائل کے حل اور زیر التواء ترقیاتی کاموں کی تکمیل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور نہ ہی پرانے شہر میںموجود اداروں کی ترقی کے متعلق کوئی سنجیدگی نظر آتی ہے۔ ریاستی حکومت تلنگانہ کی جانب سے صدر شفاء خانہ یونانی کے آؤٹ پیشنٹ بلاک کی تعمیر کے کام اب تک مکمل نہیں کئے گئے ہیں جبکہ دواخانہ کے احاطہ میں موجود بنیادی سہولتوں کو بہتر بنانے کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کے متعلق تیقن دیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود سہولتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں کوئی عملی اقدامات کا آغاز نہیں کیا گیا۔ سال 2016 میں ریاستی حکومت کی جانب سے صدرشفاء خانہ یونانی کے احاطہ میں عصری سہولتوں سے آراستہ آؤٹ پیشنٹ بلاک کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا لیکن اب تک یہ عمارت مکمل نہیں کی جاسکی ہے بلکہ اس عمارت کی تکمیل کے بغیر یونانی دواخانہ کے ذمہ داروں نے عمارت کے حصول کے ذریعہ اس عمارت میں خدمات کا آغاز کردیا ہے جبکہ عمارت کی تکمیل کے بعد ہی اسے حاصل کرتے ہوئے خدمات شروع کی جانی چاہئے تھی ۔ شفاء خانہ یونانی کے بنیادی مسائل کے حل کے سلسلہ میں کی جانے والی نمائندگیوں کے بعد ضلع انتظامیہ اور محکمہ آیوش نے اس بات کا تیقن دیا تھا کہ کالج کے طلبہ کے لئے سہولتو ںکو بہتر بنانے خصوصی فنڈس کی اجرائی عمل میں لائی جائے گی اور جلد از جلد ان کاموں کو مکمل کیا جائے گا لیکن اس تیقن کے بعد ایک سال کا عرصہ گذر چکا ہے لیکن مسائل جوں کے توں برقرار ہیں ۔ آؤٹ پیشنٹ بلاک کی عدم تکمیل کے سلسلہ میں دریافت کرنے پر کہا جا رہاہے کہ محکمہ آیوش کی جانب سے بجٹ کی عدم اجرائی کے سبب تعمیراتی کاموں میں تاخیر ہورہی ہے اور ٹھیکہ داروں کو اب ان کاموں کی تکمیل کے سلسلہ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے کیونکہ انہیں بروقت ادائیگی نہ کئے جانے کے سبب وہ کاموں کو مکمل کرنے کے موقف میں نہیں ہیں علاوہ ازیں کاموں میں تاخیر کے سبب تخمینی لاگت میں اضافہ ہوتا جا رہاہے ۔ تخمینی لاگت میں ہونے والے اضافہ کے متعلق گتہ داروں کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت اور محکمہ آیوش کی جانب سے بلوں کی اجرائی میں ہونے والی تاخیر کے باعث وہ ان تعمیراتی کاموں کو 6سال گذرنے کے باوجود مکمل نہیں کرپا رہے ہیں اور اپنے مسائل سے عہدیداروں اور صدرشفاء خانہ کے انتظامیہ کو واقف کروا چکے ہیں لیکن اس کے باوجود ان پر آؤٹ پیشنٹ بلاک کی تکمیل کا دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔م