مسلمان ایک متبادل میڈیا کے قیام کی راہیں تلاش کریں

   

’میڈیا کا بدلتا ہوا رول اور ہماری ذمہ داریاں ‘ پر جماعت اسلامی کا اجتماع

حیدرآباد۔ 6؍ مارچ ( پریس نوٹ ) موجودہ دور میڈیا کا دور ہے۔ اس دور میں مسلمان اگر وقت کے تقاضوں کی تکمیل کرتے ہوئے میڈیا میں اپنا اہم رول ادا کرنے سے قاصر رہیں گے تو یہ ملت کا بہت بڑا نقصان ہو گا۔ ملک کا نیشنل میڈیا اسلام اور مسلمانوں کے تئیں جو معاندانہ اور جانبدارانہ رویہ اختیار کیا ہوا ہے اس کا صرف یہی ایک حل ہے کہ مسلمان ایک متبادل میڈیا کو قائم کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کریں۔ مسلمان مختلف فلاحی اور رفاہی ، دینی و ملّی کاموں کو انجام دینے کے لئے کثیر رقم خرچ کرتے ہیں لیکن ضرورت ہے کہ مسلمان آج کے دور کے چیلنجس کا جواب دینے کے لئے میڈیا کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس جانب متحدہ کوشش کریں۔ ان خیالات کا جناب سید فخر الدین علی احمد، سکریٹری میڈیا، جماعت اسلامی ہند حلقہ تلنگانہ نے آج سید مودودیؒ لکچر ہال ، چھتہ بازار، حیدرآباد میں جماعت اسلامی ہند چارمینار کے اجتماع عام سے بعنوان “میڈیا کا بدلتا ہوا رول اور ہماری ذ مہ داریاں “خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ اس ضمن میں نوجوانوں کی تربیت کی ضرورت ہے تا کہ یہ نوجوان مستقبل میں ایک بیباک اور حق گو صحافی بن کر قوم و ملت کی خدمت کر سکیں۔ جماعت اسلامی ہند نے اپنے آغاز سے ہی صحافت کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس شعبہ میں مختلف کام کئے ہیں لیکن جب تک ملّت بیدار نہیں ہوگی یہ مشن پورا نہیں ہو سکتا۔ جناب حافظ فرید اللہ، ناظم شعبہ تربیت، جماعت اسلامی ہند، گوشہ محل نے سورہ رعد کی آیات کا درس قرآن دیتے ہوئے کہا کہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو جو ہدایات دیں ہیں اس پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر بندے سے عہد لیا کہ وہ اللہ کی بندگی کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرے۔ جو اس عہد کی حکم عدولی کریں گے قیامت میں ان کے لئے دردناک عذاب ہو گا۔ اسی طرح صلہِ رحمی مومن کا وصف ہے۔ قطعِ رحمی اللہ کو پسند نہیں ہے۔ ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد، امیر مقامی، جماعت اسلامی ہند چار مینار نے اپنی اختتامی گفتگو میں کہا کہ میڈیا جمہوریت کا چوتھا ستون کہلاتا ہے۔ جمہوری نظام کے استحکام میں میڈیا کا رول کلیدی ہوتا ہے۔ آزاد اور غیر جانبدار میڈیا ہی شہریوں کی آزادی کی ضمانت دے سکتا ہے۔