۔21 ریاستوں میں 12 ہزار پولیس ملازمین کا سروے ۔ اترکھنڈ و اترپردیش میں مسلمانوں کے تعلق سے منفی رائے
نئی دہلی ۔ /28 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کی پولیس فورس کے تقریباً نصف حصے کا تاثر ہے کہ مسلمان فطری طور پر تشدد کے ارتکاب کی طرف مائل رہتے ہیں جبکہ ہر تین پولیس ملازمین میں سے ایک کا بیان ہے کہ کسی بھی ہجوم کیلئے عین فطری امر ہے کہ گاؤ کشی کے معاملوں میں مبینہ ملزمین کو سزاء دی جائے ، یہ باتیں سنٹر فار دی اسٹیڈی آف ڈیولپمنگ سوسائیٹیز (CSDS) اینڈ کامن کاز کے جائزہ میں سامنے آئی ہے ۔ یہ رپورٹ جس کا عنوان اسٹیٹس آف پولیسنگ ان انڈیا 2019 ء رکھا گیا ، تقریباً 12 ہزار پولیس ملازمین کے سروے پر مبنی ہے ۔ 21 ریاستوں سے لئے گئے ان پولیس ملازمین میں خواتین بھی شامل ہے ۔ اس رپورٹ میں انڈیا کی پولیس سرویس کے بارے میں کام کاج کے طریقہ کار پر تفصیل سے توجہ دی گئی ہے ۔ اس میں یہ بھی جائزہ لیا گیا کہ وہ کس طرح کے ماحول میں اپنی ڈیوٹی انجام دیتے ہیں ۔ سروے کا تفصیلی جائزہ لینے پر انکشاف ہوتا ہے کہ تقریباً 14 فیصد ہندوستانی پولیس فورس کا احساس ہے کہ مسلمان لوگ جرم کے ارتکاب کے تیئں فطری طور پر زیادہ مائل معلوم ہوتے ہیں جبکہ 36 فیصد فورس کا ماننا ہے کہ وہ اس معاملے میں کسی حد تک مائل نظر آتے ہیں ۔ یہ بات 33 فیصد پولیس فورس کے برعکس ہے جن میں 6 فیصد نے مسلمانوں کو جرائم کے ارتکاب کے معاملے میں زیادہ مخدوش بتایا اور 27 فیصد نے کہا کہ وہ کسی حد تک اس طرف مائل ہوتے ہیں ۔ یہی 33 فیصد پولیس فورس کا احساس ہے کہ اونچی ذاتیں فوجداری جرائم کے ارتکاب کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہیں ۔ علاوہ ازیں اترکھنڈ ، جھارکھنڈ ، مہاراشٹرا اور بہار میں سروے کے بعد معلوم ہوا کہ دو تہائی پولیس فورس کی رائے ہے کہ مسلمان لوگ بھی فوجداری جرائم کے معاملے میں زیادہ ماخوذ ہوتے ہیں ۔ یہ رجحان خاص طور پر اترکھنڈ میں پریشان کن ہیں جہاں 5 میں سے 4 پولیس والوں کی یکساں رائے ہے ۔ اترپردیش میں جہاں مسلم آبادی تقریباً 19 فیصد ہے ، لگ بھگ 56 فیصد پولیس فورس مانتی ہے کہ مسلمانوں میں مجرمانہ حرکتیں کرنے کا زیادہ رجحان پایا جاتا ہے ۔ اس 56 فیصد میں سے 20 فیصد پولیس فورس مسلمانوں کو بہت زیادہ مخدوش بتاتی ہے جبکہ 36 فیصد کی رائے میں سب سے بڑی اقلیت کسی حد تک مخدوش ہے ۔