مولانا ابو زاہد شاہ سیدوحید اللہ حسینی القادری کا بیان
حیدرآباد ۔ 27 ۔ اکٹوبر : ( پریس نوٹ) : مولانا ابو زاہد شاہ سید وحید اللہ حسینی القادری الملتانی جنرل سکریٹری مرکزی مجلس فیضان ملتانیہ نے اپنے ایک صحافتی بیان میں کہا کہ سائنس اور ٹکنالوجی کی غیر معمولی ترقی کے باعث انسان کو ہر میدان میں سہولیات مہیا ہورہی ہیں لیکن جس قدر تیزی سے انسان مادی ترقی حاصل کررہا ہے اسی قدر اس کا دل مغموم ہوتا جارہا ہے یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ آج کی اس بے نظیر ترقی یافتہ دور کا اگر کوئی اہم مسئلہ ہے تو وہ سکون قلب ہی ہے ۔ عربی میں دل کے لیے دو الفاظ آئے ہیں ایک ’ فواد ‘ جس کے معنی ایسا دل جس میں خوشی یا غم کا جوش زیادہ ہو ۔ دوسرا لفظ ’ قلب ‘ ہے جو ہر دو حالت میں معتدل رہے ۔ فرحت و مسرت اور رنج و غم کے انتہائی جذبات انسان کو اکثر تباہ و برباد کردیتے ہیں ۔ انسان جوش مسرت میں ہمیشہ غرور و تکبر کا شکار ہوجاتا ہے اور انتہائی غم میں اپنی حیثیت کو پہچاننے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں یکسر ناکام ہوجاتا ہے اور نتیجتاً جس انسان کو مخدوم کائنات بنا کراس کے سر پر خلافت الہٰی کا عظیم الشان تاج رکھا گیا وہ شکوہ و شکایت میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ مذکورہ بالا انسان کی دونوں حالتیں کسی بھی لحاظ سے مومن کے شایان شان نہیں ہوسکتیں چونکہ روایت میں آتا ہے کہ ایمان دو حصوں میں منقسم ہے ایک شکر اور دوسرے صبر یعنی حقیقی مومن وہ ہے جو خوشی میں شکر بجالاتا ہے اور مصائب و آلام میں صبر و استقامت کا پیکر بن جاتا ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب اس کے پاس قلب مطمئن ہو یعنی نہ اس پر تعریف و توصیف کا کوئی اثر ہو اور نہ ہی وہ تنقید سے متاثر ہو ۔ لفظ قلب مطمئن سورۃ الرعد کی آیت نمبر 28 میں مذکورہ ’ تطمئن القلوب ‘ سے ماخوذ ہے ۔قلب مطمئن اللہ تعالیٰ کے فضل خاص سے حاصل ہوتاہے ۔۔