آئیڈیا آف انڈیا کانکلیو۔ مسرس سلمان خورشید ‘ محمد ادیب ‘ کنور دانش علی ‘ عامر علی خان و دوسروں کا خطاب
حیدرآباد ۔20اگست(سیاست نیوز) سیاسی جماعتوں سے بالاتر ہوکر مسلمانوں کی حالت زار میں تبدیلی لانے ایک کوشش کی شروعات کی گئی ہے ‘ یہی وجہہ ہے کہ مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے کے باوجود ہم ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہوئے ہیںاور ملک کو درپیش مسائل کے حل کیلئے قومی سطح پر ایک پلیٹ فارم تیار کیاجارہا ہے ۔ ہمارے اپنے اپنے شعبوں کے بہترین ماہرین موجود ہیں ۔ امید ہے کہ حیدرآباد سے اس تحریک کو نہ صرف وسعت ملے گی بلکہ چار چاند لگ جائیںگے۔ ان خیالات کا اظہار سابق مرکزی وزیر اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل جناب سلمان خورشید نے ایم جے کالج آیڈیٹوریم میں انڈین مسلم فار سیول رائٹس کے آئیڈیا آف انڈیا کانکلیو سے صدارتی خطاب کے دوران کیا۔ سابق رکن راجیہ سبھا جناب محمد ادیب‘ رکن پارلیمنٹ لو ک سبھا بہوجن سماج پارٹی کنور دانش علی‘ جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر سیاست‘ جناب نثار احمد ریٹائرڈ آئی پی ایس‘ مسٹر فضیل ایوبی سپریم کورٹ وکیل‘ جناب مسعود رضوی سابق چیرمن آبی وسائل حکومت ہند کے علاوہ دیگر نے کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے قومی سطح پر مسلمانوں کے اتحاد اور دیگر برداران وطن کو ساتھ لے کر چلنے کی کوششوں کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا ہے۔ کاروائی ڈاکٹر اعظم بیگ صدر نہرو ایجوکیشنل سوسائٹی راجستھان نے چلائی ہے ۔جناب سلمان خورشید نے کہا کہ آج لوگ کہہ رہے ہیںکہ مسلمانوں نے اپنا راستہ بدل لیاہے ‘ یہ ان کی غلط فہمی ہے ۔ مسلمانوں نے جس راستے کا 1947کے بعد تعین کیاتھا اسی راستے پر آج بھی گامزن ہیںمسلمانوں نے نہ تو راستے بدلہ ہے اورنہ ہی منزل سے ان کی نظر ہٹی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان کے مسلمانوں نے اپنا راستہ خود اختیار کیا ہے اور وہ جو تقسیم ہند کی وجہہ سے بچھڑ گئے تھے وہ بھی ہندوستان آمد کے منتظر ہیں۔ سلمان خورشید نے کہا کہ اگر کوئی ہم سے یہ کہے کہ ہندوستان تمہارا گھر نہیںہے تو ہمیں واضح جواب دینا ہوگا کہ ہندوستان ہمارا ہی گھر ہے مگر تمہارا گھر ہرگز نہیں ہے۔ ہم نے بہت کچھ اس ملک کو دیا ہے۔ جناب سلمان خورشید نے وکلاء کا پینل تشکیل دینے جناب عامر علی خان کی تجویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وکلاء کا پینل بھی انڈین مسلم فار سیول رائٹس میںشامل کرنے کی جو تجویز پیش کی گئی ہے وہ زیر غور ہے اس کو عملی جامہ پہنانے کا کام کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ دیگر تنظیمیں بھی اس سلسلہ میںتشکیل پاتی ہیںتو ان کا بھی استقبال ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم بجلی کا کھنبہ بن کر کھڑے رہیں اور سماج میںروشنی پھیلانے کی کوشش کرتے رہیںگے۔ جناب محمد ادیب نے خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں کو ڈری ہوئی قوم قراردینے پر برہمی کا اظہار کیا اور کہاکہ ہم وہ قوم ہیں جس کے پاس موقع تھا مگر پھر بھی ہم نے1947میںکشتیاں جلاکر ہندوستان میں رہنے کو ترجیح دی اس کے باوجود بھی ہمیںدہشت گرد قراردینے کی مذموم کوشش کی گئی ۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں15اگست کو یوم آزادی کا جشن منایاگیا‘ اس میں بھی مسلمانوں نے ہر جگہ پرچم لہرایا‘ خواہ وہ مسجد ہو یا مدرسہ ہو مگر کسی مندر پر قومی پرچم لہراتا نہیں دکھائی دیا۔ انہوں نے کہاکہ اگر عدالتیں سنوائی کرنا بند کردیں اور پولیس فرقہ پرست ہوجائے تو معاشرہ تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کی حالت زار میںسدھار اور سارے مسائل کا سدباب انفرادی نہیںبلکہ اجتماعی قیادت کے ذریعہ ممکن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں گڑگام میںرہتاہوں جہاں35مقررہ مقامات پر نماز جمعہ ادا کی جاتی تھی مگر اب صرف سات مقامات پر نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ سات مقامات وہ ہیں جس کی اجازت مسلم راشٹریہ منچ کے اندریش کمار کی ایماء پر ملی ہے ۔ اس طرح کے گمراہ کن حالات سے سماج کوواقف کرانے کی ضرورت ہے ۔ جناب محمد ادیب نے کہاکہ ہجومی تشدد کے واقعات پر سیاسی جماعتوں نے خاموشی اختیار کی ۔ سیاسی جماعتوں کی خاموشی معنی خیز ہے۔ انہوںنے کہاکہ مسلمانوں میں نہیں بلکہ ہندوتوا وادیوں میں خوف ہے۔ ہم نے تو جناح کا جھنڈا چھوڑ کر ترنگا اٹھایا تھا جبکہ وہ لوگ جنھوں نے 75 سالوں میںکبھی ترنگا ہاتھ میںنہیں پکڑا ‘ ترنگے کے ساتھ ریلیاں نکالنے پر مجبور ہوگئے ‘ ڈر اورخوف اس کو کہتے ہیں۔ انہوں نے کانگریس کے حوالے سے کہاکہ حالیہ ہر گھر ترنگا ‘ او ر ترنگا ریالی میںکانگریس بھی سڑکوں پر ہاتھوں میں قومی ترنگا تھامے اتر گئی۔ انہوں نے کہاکہ کانگریس کے پاس تو اپنی وارثت تھی‘ نہرو‘ گاندھی‘ آزاد اور بہت سارے مجاہدین جنگ آزادی تھے ‘ ان کی تشہیر ملک بھر میںکرتے اور عوام کے دلوں میںان کی قربانیوں کی یاد تازہ کرتے مگر کانگریس بھی بی جے پی کی طرح ترنگا ہاتھوں میں پکڑ کر سڑکوں پر اترنے کو ترجیح دی ہے۔ جناب کنور دانش علی نے کہاکہ مخالفین بوتھ سطح پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں دس فیصد الیکشن بوتھ سطح پر ووٹر لسٹ کی ازسر نو ترتیب میں ہار جاتی ہیں۔ بوتھ سطح پر سکیولر جماعتوں کو جانے والے 50 ووٹوں کو ہذف کرکے ایسے 50 ووٹوں کو شامل کر دیا جاتا ہے جو فرقہ پرستوں کو جانے والے ہیں۔ ( باقی سلسلہ اندرونی صفحات پر )