بھوپال۔ 20 مئی (سیاست ڈاٹ کام) مدھیہ پردیش پولیس نے گزشتہ ماہ ایک وکیل کی اس وقت زبردست پٹائی کردی جب وہ علاج کیلئے سرکاری ہاسپٹل جارہا تھا۔ وکیل نے پولیس کے خلاف شکایت درج کروائی۔ وکیل دیپک بندیلے کا الزام ہے کہ 23 مارچ کو وہ دوا لینے کیلئے دواخانہ جارہے تھے تو پولیس نے راستے میں روک کر ان کی پٹائی کی۔ اب ان پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ اپنی شکایت واپس لیں۔ اس واقعہ کی جو تصویر سامنے آئی ہے کہ وہ تشویشناک ہے اور سماج میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور پولیس کی من مانی و تعصبکو ظاہر کرتا ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ پولیس حکام نے اپنے بچاؤ میں دیپک بندیلے کو بتایا کہ ان کی غلطی سے پٹائی ہوگئی کیونکہ انہیں لگا کہ وہ مسلمان ہے۔ مدھیہ پردیش کے بیتول میں یہ واقعہ 23 مارچ کو پیش آیا جب وہاں دفعہ 144 نافذ کیا گیا تھا۔ بندیلے شوگر اور بلڈ پریشر کے مریض ہیں، انہیں دوائی لینا ضروری تھا لیکن پولیس نے انہیں بیچ میں ہی روک کر پٹائی کردی۔