کیا پارلیمانی انتخابات کے نتائج پہلے سے طئے ہیں ؟
آپ نوٹا کا بٹن دبائیں ‘ ہاتھ کو ووٹ دیں یا کار کو ووٹ دیں ‘ ووٹ بی جے پی کو ملے گا
حیدرآباد 22 اگسٹ ( سیاست نیوز ) بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نظام آباد اروند دھرم پوری نے مسلمانوں کو ایک طرح سے انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ چاہے کسی کو بھی ووٹ دیں انہیں ( اروند کو ) ہی کامیابی حاصل ہوگی ۔ اروند دھرم پوری نے آج اپنے حلقہ کے مسلم رائے دہندوں کا ایک اجلاس منعقد کیا ۔ اجلاس میں مسلمانوں کے تعلق سے کسی طرح کے ترقیاتی و فلاحی منصوبوں سے واقف کروانے اور ان کو اپنا ہمنواء بنانے کی بجائے اروند نے دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا اور کہا کہ وہ ( مسلمان ) چاہے جس کسی کو ووٹ دیں کامیابی تو انہیں ہی حاصل ہوگی ۔ اروند نے واضح طور پر مسلمانوں کو دھمکانے کی کوشش کی ہے کہ مسلمان چاہے کچھ بھی کرلیںکامیابی انہیںکو حاصل ہوگی ۔ ویسے تو ہر امیدوار اپنی کامیابی کا دعوی کرتا ہے لیکن اروند دھرم پوری کا یہ دعوی نہیں بلکہ مسلمانوںکو ایک طرح سے دھمکی ہے کہ وہ جیتنے والے امیدوار کو ووٹ دیں۔ اروند نے مسلمانوں سے کہا کہ وہ چاہے کچھ بھی کرلیں کامیابی انہیں کو ملے گی اور انہوں نے یہ اجلاس در اصل مسلمانوں کی بہتری کیلئے طلب کیا تھا ۔ یہ بھی ایک طرح سے مسلمانوںکو دھمکی ہی ہے کہ بی جے پی کا ساتھ دینے ہی میں مسلمانوں کی بہتری ہے ۔ اروند نے کہا کہ ’’ آپ چاہے نوٹا پر بٹن دبائیں۔ آپ چاہے کار ( بی آر ایس ) کو ووٹ دیں یا آپ چاہے ’ ہاتھ ‘ ( کانگریس ) کو ووٹ دیں جیت ان کی ہی ہوگی ۔ یہ اروند دھرم پوری کی کھلی دھمکی ہے ۔ اس کے علاوہ اروند کے بیان نے انتخابی دھاندلیوں اور ووٹنگ مشینوں میں چھیڑ چھاڑ کے الزامات کو بھی تقویت دیدی ہے ۔ کئی گوشوں سے الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ چاہے کسی بھی امیدوار کو ووٹ دیا جائے ووٹنگ مشین میںووٹ بی جے پی کو چلا جاتا ہے ۔ اب اروند نے بھی اسی طرح کی بات کرتے ہوئے ان شبہات کو تقویت بخشی ہے کہ دھاندلیاں اور بدعنوانیاں کرتے ہوئے بی جے پی کامیابی حاصل کرتی ہے ۔ الیکشن کمیشن کو اس بیان کا نوٹ لینا چاہئے کہ اروند مسلمانوں کو انہیں ووٹ دینے کیلئے جہاں کھلے عام دھمکی دے رہے ہیں وہیں وہ ہر ووٹ بی جے پی کو ملنے کا اعلان بھی کر رہے ہیں۔ اروند کا کہنا تھا کہ مسلمان کسی کو بھی ووٹ دیں آئیگا تو مودی ہی ۔ اس سے انتخابی بدعنوانیوں اور دھاندلیوں کے الزامات کی پشت پناہی ہو رہی ہے اور یہ تاثر عام ہو رہا ہے کہ کہیںبی جے پی نے پارلیمانی انتخابات کے نتائج پہلے سے تو طئے نہیںکر رکھے ہیں۔؟
