انقرہ، 20 مارچ (یو این آئی) صدر رجب طیب اردغان نے اپنے انڈونیشیائی ہم منصب پرابوو سبیانتو سے ٹیلی فون پر بات چیت میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعے کو فوری طور پر ختم کرنے کی درخواست کی۔ جمعرات کو ہونے والی گفتگو کے دورانترک صدر نے کہا کہ ایران کے خلاف حملوں سے شروع ہو کر خلیجی ممالک تک پھیلنے والا تشدد کی لہر اب فوری طور پر ختم ہونی چاہیئے ۔ انہوں نے مسجدِ اقصیٰ کو نشانہ بنانے والی اسرائیلیل جارحیت کو “ناقابلِ قبول” قرار دیا اور کہا کہ “مسلم برادریوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے داخلے میں رکاوٹ ڈال کر اسلام قبلہ اول کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے پر خاموش نہ رہیں۔ دونوں صدور نے دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی گفتگو کی۔ ایران پر حملوں اور بعد ازاں جوابی ضربوں کے بعد پورے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور یہ ضربیں خلیجی ممالک تک پھیل چکی ہیں، جس سے ایک وسیع تر علاقائی تنازعہ کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ ترکیہ نے خود کو سفارت کاری کے مضبوط حامی کے طور پر پیش کیا ہے ، اور بارہا تمام فریقین سے مزید اشتعال انگیزی سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے اور ایسے تنازعات کے علاقائی استحکام اور عالمی سلامتی پر مرتب ہونے والے خطرات کی وارننگ دی ہے ۔ انقرہ نے مذہبی اور ثقافتی مقامات کے تحفظ، خاص طور پر مقبوضہ مشرقی یروشلم میں موجود مقدس مقامات کے تحفظ کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے ۔