مسلم بچے کو پاکستانی کہنے والے شخص کے خلاف مقدمہ

   

شمالی ہند کے طرز پر واقعات سے تشویش، امجداللہ خان خالد کی نمائندگی
حیدرآباد ۔ 20 جون (سیاست نیوز) مسلم بچے کو پاکستانی کہنے والے شخص کے خلاف جواہر نگر پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے۔ کل ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد عوام میں شدید بے چینی پیدا ہوگئی تھی چونکہ شمالی ہند طرز کے واقعات کا ریاست تلنگانہ کی دارالحکومت میں پیش آنا یقیناً تشویش کا سبب بنا ہوا تھا۔ ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد پولیس بھی حرکت میں آئی۔ تعجب کہ پولیس اس وقت مقام پر موجود تھی جب ایک شخص مسلم بچہ کو پاکستانی قرار دے رہا تھا۔ ریاست میں اس طرح کے واقعات کا پیش آنا نہ صرف ریاست کی ترقی میں رکاوٹ بن سکتا ہے بلکہ آپسی بھائی چارہ اور موجود گنگاجمنی تہذیب کیلئے بھی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ مذہبی جنونیت اور ہندوتوا شدت پسندی کی ایسی کئی مثالیں سر چڑھ کر بول رہی ہیں۔ تاہم تلنگانہ پولیس نے اس معاملہ میں غیرجانبدارانہ کارروائی کو انجام دیا۔ معاملہ دراصل مکان مالک اور کرایہ دار کے درمیان تھااور پرشین بلیوں کے مسئلہ پر بحث و تکرار اور ایک لڑکے کا لڑکی کی مدد کرنا بھی تنازعہ کی ایک وجہ بتائی جارہی ہے۔ تاہم اس دوران زہرافشانی کی گئی اور ایک آرمی صوبیدار کے پوتے کو پاکستانی کہا گیا جو اس بچے کی برہمی کا سبب بن گیا تھا۔ اس معاملہ میں قائد مجلس بچاؤ تحریک امجداللہ خاں خالد نے بھی نمائندگی کی تھی اور اس خاندان سے ملاقات کرتے ہوئے اپنی حوصلہ دلایا تھا۔ اس سلسلہ میں انسپکٹر پولیس جواہر نگر ایس سائدلو نے بتایا کہ شیخ نسیمہ کی شکایت پر پولیس نے جواہر نگر اپارٹمنٹ کے سکریٹری منوج کمار کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے اور مصروف تحقیقات ہے۔ع