مسلم تحفطات کی طرح کے سی آر کو یورانیم کی کھدائی روکنے سے دلچسپی نہیں

   

ہنمنت رائو کا الزام، کے سی آر اور جگن کو عوام کی فکر نہیں، حضورنگر چنائو کے بعد احتجاج میں شدت
حیدرآباد۔ 16 اکٹوبر (سیاست نیوز) سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت رائو نے الزام عائد کیا کہ مسلم تحفظات کی طرح کے سی آر کو یورانیم کے لیے نلاملا کے جنگلاتی علاقوں میں کھدائی روکنے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اسمبلی میں کھدائی کے خلاف متفقہ قرارداد کی منظوری کے باوجود ہندوستانی بحریہ کے عہدیدار کھدائی کے انتظامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہنمنت رائو نے کہا کہ جس طرح مسلم تحفظات کی فراہمی کے لیے اسمبلی میں قرارداد منظور کرتے ہوئے کے سی آر نے اپنا پلا جھاڑلیا ہے اسی طرح یورانیم کے مسئلہ پر بھی ان کا دوہرا موقف بے نقاب ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں متفقہ قرارداد کی منظوری سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ حکومت کھدائی کے خلاف ہے۔ لیکن انڈین نیوی کے عہدیدار علاقے میں فضائی سروے کے ذریعہ صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں قرارداد کے بعد مرکز کی سطح پر کھدائی روکنے کا فیصلہ کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ اور آندھراپردیش کے چیف منسٹرس اپنے عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ یورانیم کی صورت میں تلنگانہ کے علاوہ آندھراپردیش کے 4 اضلاع آلودگی سے متاثر ہوں گے اور عوام کو کینسر، گردہ اور ہڈیوں کی بیماریوں کا اندیشہ لاحق ہے۔ آبی آلودگی کی صورت میں حیدرآباد کے عوام بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران کے سی آر نے تلنگانہ جاگو، آندھرا بھاگو کا نعرہ لگایا تھا لیکن آج وائی ایس جگن موہن ریڈی سے ملی بھگت کے ذریعہ عوام کو نقصان پہنچارہے ہیں۔ دونوں چیف منسٹرس کو عوام کی زندگی کے تحفظ سے کوئی دلچسپی نہیں۔ ہنمنت رائو نے کہا کہ دونوں چیف منسٹرس کو چاہئے کہ وہ کھدائی کے خلاف مرکز سے نمائندگی کریں۔ انہوں نے بتایا کہ 21 اکٹوبر کو حضورنگر کے انتخابات کے بعد یورانیم کی کھدائی کے مسئلہ پر ایجی ٹیشن میں شدت پیدا کی جائے گی۔ ہنمنت رائو نے کہا کہ حضورنگر کے ضمنی چنائو میں برسر اقتدار پارٹی سرکاری مشنری کے بے جا استعمال کے ذریعہ عوام کو شراب اور دولت کے ذریعہ لالچ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی افراد اور رائے دہندوں کو ہراساں کرتے ہوئے کانگریس کی انتخابی مہم کو روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ آر ٹی سی ہڑتال کے موقع پر چیف منسٹر کے رویہ کی مذمت کرتے ہوئے ہنمنت رائو نے کہا کہ کے سی آر کا ہٹ دھرمی کا رویہ ملازمین کی زندگیوں کو خطرہ پیدا کرچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کو برطرف کرنا دستور کے خلاف ہے۔ کیوں کہ ہڑتال ، حکومت کو نوٹس دینے کے بعد شروع کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر کیشو رائو نے چیف منسٹر کے خوف سے ملازمین سے بات چیت سے انکار کردیا۔ انہوں نے خود کو مصالحت کنندہ کے طور پر پیش کیا تھا لیکن چیف منسٹر کی دھمکی کے بعد انہوں نے اپنا بیان بدل دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب پارٹی کے سکریٹری جنرل کی یہ حالت ہے تو پھر دیگر قائدین کا کیا ہوگا۔ ہنمنت رائو نے کہا کہ ٹی آر ایس کے وزراء اور ارکان اسمبلی اندرونی طور پر پارٹی کی شکست کے خواہاں ہیں۔ ان کا احساس ہے کہ پارٹی کی شکست کی صورت میں ان کی اہمیت میں اضافہ ہوگا۔