مسلم تحفظات سے متعلق امیت شاہ کا بیان مضحکہ خیز: ونود کمار

   

بی جے پی کے پاس ترقی کے بجائے فرقہ وارانہ سیاست
حیدرآباد۔24۔اپریل (سیاست نیوز) نائب صدرنشین تلنگانہ پلاننگ بورڈ بی ونود کمار نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی جانب سے تلنگانہ حکومت کے خلاف عائد کردہ الزامات کو مسترد کردیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ونود کمار نے کہا کہ امیت شاہ کے الزامات حقائق سے بعید ہیں اور سیاسی مقصد براری کیلئے تلنگانہ حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ونود کمار نے کہا کہ تلنگانہ میں بی جے پی برسر اقتدار آنے پر مسلم تحفظات کی برخواستگی کا اعلان مضحکہ خیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں معاشی اور تعلیمی پسماندگی کی بنیاد پر مسلمانوں کو تحفظات حاصل ہیں اور دستوری طریقہ کار سے فراہم کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ 2022-23 ء میں سنٹرل ٹیکسیس میں تلنگانہ میں ایک لاکھ 20 ہزار کروڑ کی حصہ داری سے متعلق امیت شاہ کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2014-15 ء میں مرکزی حکومت سے تلنگانہ کو صرف 15 ہزار کروڑ حاصل ہوئے ۔ 2020-23 ء میں مرکزی حکومت سے 32,756 کروڑ جاری کئے گئے جبکہ امیت شاہ ایک لاکھ کروڑ کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ ونود کمار نے کہا کہ تلنگانہ سے 39 ہزار کروڑ روڈ ٹیکس وصول کرتے ہوئے تلنگانہ کو 32 ہزار کروڑ دیئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے پاس فرقہ وارانہ سیاست اور فسادات کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ تلنگانہ میں فرقہ وارانہ سیاست کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں تلنگانہ کی طرح فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات پر عمل کر کے دکھائیں۔ر