٭ کے سی آر نے 4 سال میں ایک مرتبہ بھی اقلیتی مسائل پر اعلیٰ سطحی اجلاس طلب نہیں کیا
٭ گریجن بندھو اسکیم کیلئے رہنماخطوط کی تیاری، راجیہ سبھا و کونسل میں مسلم نمائندگی بھی فراموش
حیدرآباد۔/17 نومبر، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس حکومت سے 12 فیصد مسلم تحفظات معاملے میں مسلمانوں کو ٹھینگا دکھانے کے بعد مسلم یا اقلیت بندھو اسکیم کو متعارف کرانے میں ٹال مٹول کی پالیسی اختیار کرکے مسلمانوں کو جھانسہ دیا جارہا ہے۔ سربراہ ٹی آر ایس چندر شیکھر راؤ نے 2014 کی انتخابی مہم میںاقتدار ملنے کے بعد اندرون 4 ماہ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اسمبلی کا خصوصی سیشن طلب کرکے ایس ٹی تحفظات کو 6 فیصد سے توسیع دے کر 10 فیصد کرنے اور 4 فیصد مسلم تحفظات کو 12 فیصد تک توسیع دینے کی قرارداد منظور کرکے مرکز کو پیش کی گئی تھی۔ 8 سال ہونے کے باوجود مسلمانوں سے وعدہ پورا نہیں کیا گیا جبکہ منوگوڑ ضمنی انتخاب سے قبل ایس ٹی تحفظات کو 6 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کردینے کا جی او جاری کردیا گیا۔ تعلیمی داخلوں اور سرکاری جائیدادوں پر تقررات میں ایس ٹی طبقات کو 10 فیصد تحفظات فراہم کرنے اور ترقی میں بھی اس پر سختی سے عمل کے احکام جاری کردیئے گئے اور حکام کی جانب سے عمل بھی کیا جارہا ہے۔ 17 ستمبر 2022 کو چیف منسٹر کے سی آر نے دلت بندھو اسکیم کی طرز پر گریجن بندھو اسکیم متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا تب سے محکمہ قبائیلی بہبود کی جانب سے گریجن بندھو اسکیم متعارف کرانے تیاریوں کا آغاز کردیا گیا ۔ ذرائع کے بموجب قبائیلی طبقات کیلئے مختص 12 اسمبلی حلقوں میں گریجن بندھو اسکیم کو پائلٹ پراجکٹ کے طور پر منظور کیا جائیگا۔ اس کے بعد ریاست بھر میں توسیع دی جائے گی۔ ہر مستحق ایس ٹی خاندان کو 10 لاکھ روپئے دینے کا منصوبہ ہے۔ ریاست میں ایس سی طبقہ کی آبادی 56 لاکھ ہے جن کیلئے بجٹ میں 17 ہزار کروڑ روپئے کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ اقلیتوں کی آبادی 50 لاکھ ہے جن کیلئے بجٹ میں 1400 کروڑ روپئے کی گنجائش فراہم کی گئی ہے جبکہ ایس ٹی طقات کی آبادی 43 لاکھ ہے ان کیلئے تقریباً 10 ہزار کروڑ روپئے کا بجٹ منظور کیا گیا ۔ ایس سی و ایس ٹی طبقات کیلئے سب پلان ہے اگر اتفاق سے ان کا بجٹ خرچ نہ بھی ہو تو دوسرے سال کے بجٹ میں اس کو شمار کرلیا جائیگا اور گرین چینل کے ذریعہ ان دونوں طبقات کے بجٹ کو جاری کیا جارہا ہے جبکہ اقلیتی بجٹ بڑی مشکل سے 50 فیصد بھی خرچ نہیں ہوتا اور جو بجٹ خرچ ہونے سے رہ جاتا ہے وہ خزانہ میں لوٹ جاتا ہے۔ 8 سال کے دوران مسلمانوں کو 12 فیصد مسلم تحفظات سے محروم رکھا گیا ہے۔ اس دوران ایس سی، ایس ٹی اور بی سی طبقات کے بجٹ میں زبرست اضافہ کیا گیا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ایک مرتبہ اقلیتی بجٹ کو2000 کروڑ روپئے کیا گیا اس کے بعد دوسرے سال سے اس کو گھٹاکر 1400 کروڑ تک محدود کردیا گیا اور ان 8 برسوں میں کسی بھی سال مکمل بجٹ جاری نہیں کیا گیا۔ چیف منسٹر کے سی آر نے تلنگانہ بھون میں پارٹی توسیعی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دلت بندھو کے طرز پر گریجن بندھو، بی سی بندھو اور اقلیت بندھو اسکیمات کو متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا۔ مگر اس میں صرف گریجن بندھو اسکیم کو متعارف کرانے خطوط تیار کئے جارہے ہیں۔ اقلیتی اور بی سی بندھو اسکیمات کو فراموش کردیا گیا ہے۔ چیف منسٹر نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کا وعدہ کیا تھا مگر آج مرکز پر ذمہ داری عائد کرکے خود راہ فرار اختیار کررہے ہیں۔ تلنگانہ حکومت کی فلاحی اسکیمات، ڈبل بیڈ روم مکانات، آسرا پنشن ، 12 فیصد بجٹ کی فراہمی اور دیگر اسکیمات جس پر حکومت کا اختیار ہے اس میں مسلمانوںکو 12 فیصد نمائندگی نہیں دی گئی ۔ یہاں تک کہ ٹی آر ایس کی تنظیمی سطح پر مسلمانوں کو 12 فیصد نمائندگی نہیں ہے۔ ٹی آر ایس کی 20 سالہ تاریخ میں آج تک کسی مسلمان کو راجیہ سبھا رکن نہیں بنایا گیا اور نہ وزارت میں ایک سے زیادہ کو نمائندگی دی گئی۔ حالیہ دنوں میں 18 ایم ایل سیز کا انتخاب کیا گیا میعاد مکمل ہونے والوں میں محمد فرید الدین بھی شامل تھے ان کی جگہ کسی اور مسلمان کو کونسل کا رکن نہیں بنایا گیا۔ اس طرح تمام شعبوں میں مسلمانوں سے ناانصافی جاری ہے۔ ٹی آر ایس حکومت کی دوسری میعاد کے چار سال مکمل ہوگئے ہیں مگر ایک مرتبہ بھی چیف منسٹر نے اقلیتوں کے مسائل پر اعلیٰ سطحی اجلاس طلب نہیں کیا۔ سپریم کورٹ میں 4 فیصد مسلم تحفظات پر تلوار لٹک رہی ہے اس کا دفاع کرنے چیف منسٹر نے لا ڈپارٹمنٹ ، ماہرین قانون اور حکام کا اجلاس طلب نہیں کیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اقلیتوں سے ٹی آر ایس حکومت اور چیف منسٹر کے سی آر کو کتنی ہمدردی ہے۔ن