مسلم تحفظات کو ختم کرنے رکن اسمبلی کے بیان کی مذمت

   

Ferty9 Clinic

گلبرگہ :ممتاز عوامی قائدمسٹر سید سجادعلی انعامدار سابقہ ڈپٹی مئیر گلبرگہ نے اپنے صحافتی بیان میںکہا ہے کہ ریاست کرناٹک میں مسلمانوںکو سرکاری ملازمتوں کے حصول میں اور اعلی ٰ تعلیمی نصابوںمیں داخلوںکے لئے جو 4تحفظات سابقہ کئی برسوں سے فراہم کی جارہی ہیںانھیں اب ختم کردینے کاایک بی جے پی کے رکن اسمبلی دھارواڑ اروند بیلد نے مطالبہ کیا ہے ۔اس رکن اسمبلی نے ریاست کی بی جے پی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ریاستی مسلمانوںکو فراہم کردہ 4فی صد تحفظات ختم کرکے یہی تحفظات ریاست کے پنجم سالی لنگایت طبقہ کو فراہم کی جائیں ۔ مسٹر سجاد علی نے اس بیان کی مذمت کرتے ہئے کہا ہے کہ س بی جے پی کے رکن اسمبلی اروند بیلد کو اس طرح کا مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ انھوںنے بتایا کہ اگر ریاستی حکومت ریاست کے پننجم سالی لنگایتوںکو تحفظات فراہم کرنا چاہتی ہے تو اس پر مسلمانوںکو کوئی اعتراض نہیںہے ۔ لیکن ریاست کرناٹک میںمسلمانوںکو جو تحفظات فراہم کئے گئے ہیں وہ ان کا دستوری حق ہیں ۔ اس دستوری حق اور مسلمانوںکو فراہم کردہ تحفظات کو ختم کرنے کی کوشش کی جائیگی تو مسلمانان کرناٹک اس کے خلاف زبردست احتجاج شروع کردیں گے ۔ کرناٹک کی آبادی کا 15فیصد سے زیادہ کا تناسب رکھنے والیمسلمانان اس طرح کے غیر جمہوری وغیر دستوری فیصلوں کو قطعی برداشت نہیںکریںگے اور اس طرح کے فیصلوں کے خلاف زبردست احتجاجی مہم چلائی جائے گی ۔ مسٹر سجاد علی انعامدار نے کرناٹک کے منتخب مسلم نمائیندوں پر زور دیا ہے کہ وہ تحفظات کو ختم کرنے کی اس طرح کی سازشوںکے خلاف متحد ہوجائیں اور مسلمانوںکو فراہم کردہ تحفظات کی برقراری اور اس میںاضافہ کے لئے آگے آئیں۔