مسلم تحفظات کی مخالفت پر امیت شاہ کیخلاف سپریم کورٹ میں شکایت: محمد علی شبیر

   

تلنگانہ کے تحفظات مذہبی بنیاد پر نہیں، بی جے پی اقتدار کا خواب دیکھنا چھوڑدے
حیدرآباد۔24۔اپریل (سیاست نیوز) سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے مسلم تحفظات کے خلاف مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے بیان پر سخت تنقید کی اور کہا کہ وہ امیت شاہ کے خلاف سپریم کورٹ میں شکایتی درخواست داخل کریں گے ۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ وزیر داخلہ دستور میں اقلیتوں کو فراہم کردہ حقوق سے واقف نہیں ہیں۔ تلنگانہ اور آندھراپردیش میں مسلم تحفظات کا مسئلہ سپریم کورٹ میں زیر دوران ہیں ، لہذا امیت شاہ کو اس معاملہ پر تبصرہ کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ محمد علی شبیر جو سپریم کورٹ میں تحفظات مقدمہ میں فریق ہیں، کہا کہ امیت شاہ کے مخالف مسلم تحفظات بیان پر شکایتی درخواست داخل کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ آندھراپردیش میں مسلمانوں کو مذہبی بنیاد پر 4 فیصد تحفظات فراہم نہیں کئے گئے بلکہ سماجی اور تعلیمی پسماندگی کی بنیاد پر بی سی کمیشن سے رپورٹ حاصل کرتے ہوئے تحفظات فراہم کئے گئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ میں تحفظات کی برقراری کے حق میں عبوری احکامات جاری کئے۔ مرکزی وزیر داخلہ بنیادی معلومات سے محروم ہیں اور افسوس اس بات کا ہے کہ ایک ناواقف شخص ملک کے وزیر داخلہ کے عہدہ پر فائز ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے بی سی کمیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر تمام مسلمانوں کو نہیں بلکہ مسلمانوں میں معاشی اور سماجی طور پر پسماندہ 14 طبقات کو تحفظات کے زمرہ میں شامل کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے مخیر طبقات کو تحفظات کی گنجائش نہیں ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ سیاسی مقصد براری کیلئے کرناٹک کی طرح تلنگانہ میں مسلم تحفظات ختم کرنے کے اعلانات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امیت شاہ کو تلنگانہ میں اقتدار کا خواب دیکھنا ترک کرنا چاہئے ۔ تلنگانہ میں بی جے پی سنگل ڈجیٹ تک محدود ہوجائے گی اور اقتدار کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور بی آر ایس خفیہ مفاہمت کے ذریعہ عوام کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ مرکز میں اقلیتی بہبود کے بجٹ میں کمی کی گئی اور مسلم طلبہ کو اسکالرشپ سے محروم کردیا گیا ۔ محمد علی شبیر نے بی جے پی رکن اسمبلی ایٹالہ راجندر کی کانگریس کے خلاف الزام تراشی پر تنقید کی اور کہا کہ منوگوڑ ضمنی چناؤ کے 6 ماہ بعد الزام تراشی کا خیال آیا ۔ انہوں نے راجندر سے سوال کیا کہ کانگریس میں شمولیت کیلئے انہوں نے کانگریس پارٹی کا دروازہ کیوں کھٹکھٹایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عنقریب راجندر کی اصلیت کو عوام میں بے نقاب کیا جائے گا۔ر