مسلم تحفظات کے ذریعہ ایس ٹی تحفظات میں رکاوٹ کی سازش

   

سابق رکن کونسل راملو نائک کا الزام، صدر جمہوریہ کو دو علحدہ بل روانہ کرنے کی تجویز
حیدرآباد ۔ 19 ۔ اگست (سیاست نیوز) سابق رکن کونسل کے راملو نائک اور پردیش کانگریس کمیٹی ایس سی ڈپارٹمنٹ کے کارگزار صدرنشین کے مہیشور راج نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس حکومت درج فہرست قبائل کو تحفظات فراہم کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے راملو نائک نے کہا کہ 16 اپریل 2017 ء کو کے سی آر حکومت نے اتوار کے باوجود اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کیا اور درج فہرست قبائل کے تحفظات کو 6 سے بڑھاکر 10 فیصد کرنے کے بل کو منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ مسلم تحفظات کو 4 فیصد سے بڑھاکر 10 فیصد کردیا گیا ۔ مرکزی حکومت کے تحت ایس سی طبقہ کو 15 فیصد ، بی سی طبقات کو 27 فیصد اور قبائل کو 7.5 فیصد تحفظات حاصل ہے اور جملہ تحفظات 49.5 فیصد ہیں جبکہ تلنگانہ میں ایس سی طبقات کو 15 فیصد ، بی سی طبقات کو 29 فیصد ، ایس ٹی کو 6 فیصد اور مسلم کو 4 فیصد تحفظات حاصل تھے جو مجموعی طور پر 50 فیصد ہورہے تھے۔ ٹی آر ایس حکومت نے ایس ٹی اور مسلمانوں کے تحفظات میں اضافہ کرتے ہوئے مجموعی فیصد کو 62 کردیا۔ مجوزہ اضافہ سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر کردہ 50 فیصد کی حد سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر حکومت تحفظات کی فراہمی میں سنجیدہ ہوتی تو وہ سپریم کورٹ کے احکامات کی پابندی کرتی لیکن 50 فیصد سے تجاوز کرتے ہوئے قانونی رکاوٹ کی راہ ہموار کردی ہے۔ راملو نائک نے بتایا کہ دستور کے مطابق ایس سی ، ایس ٹی اور او بی سی کو تحفظات حاصل ہیں۔ کوئی بھی ریاستی حکومت آبادی کے اعتبار سے ان طبقات کے لئے تحفظات کا تعین کرسکتی ہے۔ بشرطیکہ تحفظات 50 فیصد سے زائد نہ ہوں۔ تلنگانہ حکومت نے مجموعی تحفظات کو 62 فیصد کرتے ہوئے بل کو منظوری کیلئے مرکز کے پاس روانہ کیا۔ مرکز نے بل کو محض اس لئے واپس کردیا کیونکہ اس میں مسلم تحفظات شامل ہیں۔ مودی حکومت کو ایس ٹی طبقہ کے لئے تحفظات کی فراہمی پر کوئی اعتراض نہیں جبکہ بی جے پی کو یہ اعتراض ہے کہ دستور میں مسلم تحفظات کی کوئی گنجائش نہیں۔ کے سی آر اچھی طرح جانتے ہیں کہ مسلم تحفظات دستور ہند میں شامل نہیں اور ایس ٹی تحفظات آبادی کے اعتبار سے فراہم کئے جاسکتے ہیں۔ راملو نائک نے کہا کہ کے سی آر درج فہرست قبائل کو آبادی کے اعتبار سے تحفظات فراہم کرنے تیار نہیں۔ اسی لئے انہوں نے مسلم تحفظات کو ایک ہی بل میں شامل کردیا۔ اگر انہیں سنجیدگی ہوتی تو وہ دو علحدہ بل کے طور پر مرکز کو روانہ کرتے۔ تلنگانہ اسمبلی میں بل کی منظوری کو دو سال سے زائد کا عرصہ ہوگیا لیکن مرکز نے منظوری نہیں دی۔ راملو نائک نے کہا کہ حکومت کو علحدہ قرارداد کے بجائے دو علحدہ بل تیار کرتے ہوئے مرکز کو روانہ کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ درج فہرست قبائل کو مسلم تحفظات پر کوئی اعتراض نہیں۔ تاہم وہ آبادی کے اعتبار سے درج فہرست قبائل کو تحفظات کے حامی ہیں۔