مسلم حجام اور دھوبیوں کو برقی رعایت، نام ایک کا فائدہ دوسرے کا

   

نائی برہمن نے کنٹراکٹ پر دکانات حوالے کیں، شمالی ہند کے مسلم حجاموں کا غلبہ، مسلم دھوبیوں کے 200 خاندان

حیدرآباد۔/21ستمبر، ( سیاست نیوز) حکومت نے مسلم حجام اور دھوبیوں کیلئے ماہانہ 250 یونٹ مفت برقی سربراہی کا فیصلہ کیا ہے تاہم مذکورہ اسکیم سے محدود تعداد میں خاندانوں کو فائدہ ہوگا۔ مسلم دھوبیوں کی تعداد کافی کم ہے جبکہ مسلم حجام اگرچہ تعداد میں زیادہ ہیں لیکن سبسیڈی سے انہیں راست طور پر فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ مقامی نائی برہمن انہیں دکان کنٹراکٹ پر دے چکے ہیں اور روزانہ یا ماہانہ کی بنیاد پر رقومات وصول کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حیدرآباد میں دھوبیوں کی تنظیم کے تحت 200 مسلم دھوبیوں کے خاندان درج رجسٹر ہیں جبکہ مسلم حجاموں کی حیدرآباد میں تقریباً ایک ہزار دکانات موجود ہیں۔ 30 سال قبل روز نامہ سیاست کی مدد سے حیدرآباد میں پہلا مسلم حجام متعارف کیا گیا تھا اور مغلپورہ کے علاقہ میں مرحوم جناب ظہیر الدین علی خاں نے پہلے مسلم ہیر کٹنگ سیلون کا افتتاح انجام دیا تھا۔ حیدرآباد کے مسلم نوجوانوں کو ہیر کٹنگ کی تربیت کی کوشش کی گئی لیکن مقامی نوجوانوں نے دلچسپی نہیں دکھائی جس کے نتیجہ میں شمالی ہند سے تعلق رکھنے والے مسلم حجاموں نے حیدرآباد اور تلنگانہ کے دیگر علاقوں کا رخ کیا اور ہر ضلع میں اپنے ہیر کٹنگ سیلون چلارہے ہیں۔ حیدرآباد میں مسلم دھوبیوں کی نمائندگی پر دو مسلم دھوبی گھاٹ منظور کئے گئے جو بہادر پورہ اور یاقوت پورہ میں قائم ہیں۔ دھوبی گھاٹ میں حکومت کی جانب سے مفت برقی سربراہ کی جاتی ہے۔ مسلم دھوبیوں کو اقلیتی اقامتی اسکولوں میں بچوں کے ملبوسات کی دھلوائی کا کنٹراکٹ دیا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں خاطر خواہ آمدنی حاصل ہورہی ہے۔ جہاں تک مسلم حجاموں کو 250 یونٹ سبسیڈی سے فائدہ کا معاملہ ہے زیادہ تر دکانیں نائی برہمنوں کی ہیں جو مسلم حجاموں کو کنٹراکٹ پر دی گئی ہیں۔ نائی برہمنوں کا تعلق چونکہ ایس سی، ایس ٹی طبقات سے ہے لہذا انہیں آسانی سے سرکاری ملازمت مل جاتی ہے اور وہ ملازمت کرتے ہوئے دکان سے آمدنی حاصل کررہے ہیں۔ گریٹر حیدرآباد میں جو دکانات کنٹراکٹ پر دی گئیں ان میں زیادہ تر 50 فیصد پر چلائی جارہی ہیں جن میں مجموعی آمدنی کا 50 فیصد دکان مالک کو ادا کرنا پڑتا ہے۔ برقی سبسیڈی کے معاملہ میں مسلم حجاموں کو فائدہ اس لئے بھی نہیں ہوگا کیونکہ زیادہ تر مسلم حجاموں کی دکانیں لائسنس کے بغیر چلائی جارہی ہیں۔ بلدیہ اور دیگر محکمہ جات سے ضروری منظوری کے بغیر چلنے والی دکانیں برقی سبسیڈی سے استفادہ نہیں کر پائیں گی۔ مسلم حجاموں کیلئے حکومت نے بظاہر 250 یونٹ مفت برقی سربراہی کا اعلان کیا ہے لیکن نام کسی کا اور سبسیڈی سے استفادہ کوئی اور کررہا ہے۔ اگر مسلم حجام اپنی دکانات کا لائسنس حاصل کرلیں تو وہ نہ صرف سبسیڈی سے استفادہ کرسکتے ہیں بلکہ آمدنی کی تقسیم کی ضرورت نہیں ہوگی۔ مسلم حجام پر شمالی ہند کے افراد کا غلبہ ہے۔ دہلی، اتر پردیش اور بہار سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں حجام اپنے خاندانوں کے ساتھ حیدرآباد منتقل ہوچکے ہیں اور فیشن ایبل کٹنگ اور دیگر خدمات کے ذریعہ روزانہ بھاری آمدنی حاصل کررہے ہیں۔ اگر تلنگانہ کے بیروزگار نوجوان بھی حجامت کو معیوب پیشہ سمجھنے کے بجائے اگر وابستہ ہوجائیں تو وہ بھی اپنی صلاحیتوں کے ذریعہ روزانہ ہزاروں روپئے کما سکتے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ مسلم حجاموں اور دھوبیوں تک برقی سبسیڈی کو محدود کرنے کے بجائے اگر تمام غریب خاندانوں کو یہ سہولت دی جاتی تو زیادہ بہتر ہوتا۔