محمد علی شبیر کا چیف منسٹر کو مکتوب
حیدرآباد۔22۔ اپریل (سیاست نیوز) سابق وزیر اور قانون ساز کونسل کے سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے چیف منسٹر کے سی آر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے لاک ڈاؤن سے متاثرہ غریب مسلم خاندانوں کو دعوت افطار کے فنڈس سے اناج کی سربراہی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جاریہ مالیاتی سال ریاست میں دعوت افطار کے لئے 66 کروڑ اور چیف منسٹر کی دعوت افطار کیلئے 1.83 کروڑ مختص کئے ہیں۔ موجودہ حالات میں مساجد میں دعوت افطار کے اہتمام کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لہذا ہر سال رمضان المبارک میں غریب مسلمانوں میں ملبوسات پر مبنی رمضان گفٹ کی تقسیم ممکن نہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ دعوت افطار ، رمضان گفٹ اور چیف منسٹر کی دعوت افطار کے فنڈس کے ذریعہ غریب عوام میں راشن کٹس تقسیم کریں۔ یہ تقسیم مساجد کے پاس ممکن نہیں ہے ،لہذا راشن شاپس کے ذریعہ تقسیم عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سابق میں کانگریس حکومت نے اماں ہستم اسکیم کے ذریعہ 9 ضروری اجناس کی غریبوں میں سربراہی کا آغاز کیا تھا۔ دال ، گیہوں ، شکر ، نمک ، مرچ پاؤڈر ، ہلدی اور دیگر اشیاء پر مشتمل یہ کٹ تقسیم کیا گیا ۔ کے سی آر حکومت کو اسی طرز پر راشن کٹ تیار کرنا چاہئے ۔ سابق میں یہ روایت رہی ہے کہ دیپاولی ، رمضان اور دیگر تہواروں کے موقع پر راشن دکانوں سے ایک کیلو شکر جاری کی گئی۔ کے سی آر حکومت کو رمضان المبارک کے موقع پر راشن کارڈ ہولڈرس میں شکر جاری کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں عوام بالخصوص روزانہ محنت مزدوری کرنے والے معاشی بحران کا شکار ہیں۔ حکومت نے سفید راشن کارڈ ہولڈرس کیلئے 12 کیلو چاول اور 1500 روپئے کا اعلان کیا لیکن راشن کارڈ سے محروم غریب خاندانوں کو محروم کردیا گیا ہے۔