کلکتہ:مغربی بنگال اسمبلی آج اس وقت حکمراں جماعت کو حیرت انگیز صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جب کہ سابق ریاستی وزیر اور سابق آئی پی ایس آفیسر ہمایوں کبیر نے ریاست میں نوبل انعام یافتہ امرتیہ سین کی رپورٹ کاحوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلم خواتین کی اقتصادی و سماجی صورت حال انتہائی خراب ہے اس لئے ایس سی اور ایس ٹی خواتین کی طرح مسلم خواتین کو بھی ایک ہزار روپے لکشمی بھنڈار کے تحت دئیے جائیں ۔ہمایوں کبیر کے اس مطالبے پر حکمراں جماعت کے وزرا اور ممبران حیران ہوگئے ۔بعد میں صنعت و تجارت اور خواتین، بچوں اور سماجی بہبود کے وزیر ششی پنجا نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمایوں کبیر نے پرتیچی ٹرسٹ کی رپورٹ کا ذکر کیا اور کہا کہ ‘‘مسلم خواتین کی حالت مالی طور پر اچھی نہیں ہے ۔ جب ہم پنچایتی انتخابات میں گئے تو مسلم خواتین کی شکایت کی تھی کہ ایس سی اور ایس ٹی سے تعلق رپنے والی خواتین کو ایک ہزار روپے ملتے ہیں ۔ششی پانجا نے کہا کہ لکشمی بھنڈار مذہبی بنیاد پر نہیں دی جارہی ہے ۔وزیر اعلیٰ پسماندہ افراد کے لئے متعین کررکھی ہے ۔ اس وقت لکشمی بھنڈارسے مستفید ہونے والوں کی تعداد 1 کروڑ 98 لاکھ 37 ہزار 33 ہے ۔