مسلم ریزرویشن اور فلمی شخصیات کی تصویر کا مسئلہ لوک سبھا میں اٹھایا گیا

   

نئی دہلی: لوک سبھا کے اراکین نے آج مسلمانوں کے لیے ریزرویشن کو آئین کے خلاف قرار دیتے ہوئے حکومت سے آئین کے مطابق نظام کو بحال کرنے اور سوشل میڈیا کے ذریعے فلمی شخصیات کی تصویر کشی کے معاملے کو تمام شہریوں کے لیے اٹھائے جانے کا مطالبہ کیا ۔وقفہ صفر کے دوران بی جے پی کے نشی کانت دوبے نے مسلم ریزرویشن اور مسلمانوں کو دیے گئے خصوصی حقوق کو آئین کے لیے خطرہ قرار دیا اور کہا کہ آئین کو خطرے میں ڈالنے والی کسی بھی کارروائی کو روکنا چاہیے۔ اس سلسلے میں انہوں نے 1991 اور 1995 میں بنائے گئے دو ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1991 کا ایکٹ ہندوؤں کو تحمل سے کام لینے کو کہتا ہے اور 1995 کا ایکٹ مسلمانوں کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ جس زمین پر ہاتھ ڈالیں وہ ان کی ملکیت بن جائے ۔ اس طرح مسلمانوں کو اے ایس آئی اور دیگر جائیدادوں پر حقوق مل گئے ۔ مسلمانوں کو یادگار اور ان کی زمین دینے کے ساتھ ساتھ انہیں ٹھیکے میں ریزرویشن بھی دیا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 49 کہتا ہے کہ تمام مذہبی مقامات کی دیکھ بھال اور نگرانی کی ذمہ دار ی مرکزی حکومت کی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ ملک میں مسلمانوں کو ریزرویشن دیا جا رہا ہے جو آئین کی دفعات کی خلاف ورزی ہے ۔ تاکہ کوئی کام آئین کے خلاف نہ ہو، حکومت سب کو یکساں حقوق دے اور جہاں بھی غیر آئینی کام ہوا ہے اسے روکا جائے ۔بی جے پی کی ہیما مالنی نے فلم انڈسٹری میں اے آئی اور اس جیسی ٹیکنالوجی کے ذریعے فلمی شخصیات کی شبیہ کو نشانہ بنانے کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو ان کی ساکھ کے لیے مہلک ثابت ہو رہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ سوشل میڈیا پر ویڈیوز اپ لوڈ کر کے فلمی شخصیات کی شبیہ کو خراب کر رہے ہیں اور ان کے بارے میں برے تبصرے کیے جا رہے ہیں۔