مقدمہ کی جلد سماعت کی درخواست ‘الہ آباد ہائیکورٹ کے 31 مئی کے حکم کیخلاف بھی اپیل
نئی دہلی: مسلم فریق نے اتر پردیش کے وارانسی کے گیان واپی کیمپس میں واقع شرنگار گوری کی روزانہ پوجا کرنے کا مطالبہ کرنے والی ایک عرضی پر ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے شرنگار گوری کی روزانہ پوجا کرنے کا مطالبہ کرنے والی عرضی کو قابل سماعت قرار دیا ہے۔ مسلم فریق الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کرنے والی عرضی پر پیر 24 جولائی کو سپریم کورٹ سے جلد سماعت کا مطالبہ کرے گا۔اس کے علاوہ گیان واپی انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی وارانسی کی ضلع عدالت سے جمعہ 21 جولائی کو احاطہ کے اے ایس آئی سے سائنسی سروے (سیل علاقہ کو چھوڑ کر) کے حکم کو بھی سپریم کورٹ میں پیش کرے گی۔ مسلم فریق کی عرضی میں وارانسی کی ضلعی عدالت میں گیان واپی سے متعلق تمام عرضیوں کی سماعت پر پابندی لگانے کی درخواست کی گئی ہے۔دراصل، مسجد انجمن انتظامیہ مسجد کی اس عرضی میں الہ آباد ہائی کورٹ کے 31 مئی کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا ہے، جس میں ہائی کورٹ نے گیان واپی کے احاطے میں دیوی شرنگار گوری کی روزانہ پوجا کرنے کے حق کو بحال کرنے کے لیے ہندو فریق سے تعلق رکھنے والی 5 خواتین عقیدت مندوں کی درخواستوں پر غور کیا ہے۔ سپریم کورٹ میں مسجد کمیٹی کی عرضی پر سماعت 28 جولائی کو مقرر کی گئی تھی، جس میں مبینہ شیولنگ کی کاربن ڈیٹنگ کرانے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ حالانکہ، پچھلی سماعت میں سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے حکم پر عبوری روک لگا دی تھی، لیکن وارانسی کی ضلع عدالت کے گیانواپی احاطے میں اے ایس آئی کا سروے کرنے کے حکم کے بعد، جلد سماعت کی مانگ کی جا رہی ہے۔عرضی گزار نے استدعا کی ہے کہ سپریم کورٹ کا 19 مئی کا حکم نامہ بحال کیا جائے جس میں اے ایس آئی کا سروے اگلے احکامات تک ملتوی کرنے کا کہا گیا ہے۔ اسی دوران اطلاعات کے مطابق آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ذریعہ وارانسی کی گیان واپی مسجد کا سروے کل سے شروع ہوگا، ضلع مجسٹریٹ نے کہا ہے۔ سروے کا ایک مقامی عدالت نے جمعہ کو حکم دیا ۔ یہ سروے صبح شروع ہو گا۔ یہ مہر بند وضوخانہ کے علاوہ تمام علاقوں تک کیا جائے گا جہاں 2022 میں ایک سروے کے دوران ایک ڈھانچہ دریافت کیا گیا تھا جس کے بارے میں ہندو دعویداروں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ‘شیولنگ’ ہے یعنی بھگوان شیو کا مجسمہ ہے۔
