مثالی معاشرہ کیلئے دوبدو پروگرام کا ملک بھر میں انعقاد ضروری، جناب ظہیرالدین علی خاں منیجنگ ایڈیٹر روزنامہ سیاست کی نگرانی میں 107 واں دوبدو ملاقات پروگرام
l رشتے جہیز کی بنیاد پر نہیں بنتے۔ لین دین ترک کریں
l مسلم لڑکیوں کا غیر مسلم لڑکوں سے آزادانہ رابطہ کو روکنا والدین کی ذمہ داری
l دوبدو پروگرام سے جناب ڈاکٹر سیادت علی، ڈاکٹر محمد احسن فاروقی، ڈاکٹر ناظم علی کا خطاب
رآباد۔ہندوستان ان دنوں ایک نئی کروٹ لیا ہے، لڑکے و لڑکیوں نے جہاں ماضی میں اپنی عزت و آبرو کی پاسداری کرتے ہوئے صوم و صلوٰۃ ، اُمور خانہ داری سے واقف ہوکر بڑا نام کمایا کرتی، آج تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود ایسے ایسے اقدامات کررہے ہیں جس سے ملک و قوم کا نام بدنام ہونے کے سوا کچھ نہیں۔ ایسے میں اگر مسلمان قرآن و اسلامی تعلیمات کو اپنے پاس رکھنے کے بعد بھی معاشرہ میں ایسی جان لیوا روش اختیار ہورہی ہے تو زمانہ کا برا نہ ہوگا بلکہ قوم و ملت کے نام پر سیاہ دھبہ لگے گا جسے کبھی معاف نہیں کیا جاسکتا۔ ملک کی بیٹی و بہن عائشہ عارف نے سابرمتی ندی میں کود کر خودکشی کی ہے جس سے اس کی اور قوم کی دنیا و آخرت میں رسوائی ہوئی ہے۔ لڑکیاں اس طرح کے اقدام سے فوری باز آجائیں اور اپنی زندگی میں صبر، شکر و قناعت پسندی اختیار کریں۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے سیاست اور ملت فنڈ کے زیر اہتمام 107ویں دو بہ دو ملاقات پروگرام میں کیا جو رائیل ریجنسی گارڈن ، آصف نگر روبرو پٹرول پمپ منعقد ہوا۔ جناب ظہیر الدین علی خان منیجنگ ایڈیٹر روز نامہ سیاست نے نگرانی کی ۔ مسلم لڑکوں اور لڑکیوں کی شادیاں طئے کرنے کے اس انوکھے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سیادت علی نے ملک کی موجودہ صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ ملک جو کئی دھرموں، مذاہب اور دین کا گہوارہ ہے اور یہاں جتنی تیزی کے ساتھ تعلیمات ایک دوسرے کو پھیلائی جاتی ہیں اس کے باوجود ہر روز نکلنے والا سورج ایک نئی کہانی لئے ہوئے رہتا ہے جس کو پڑھ کر اور سن کر آنکھ و کان ششدر رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنی زندگیوں کو اسلامی تعلیمات کے تحت گذاریں تو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی دنیا و آخرت میں حاصل ہوگی۔ جب تک ہمارا عقیدہ درست نہیں ہوگا سارے معاملات میں گڑبڑ پیدا ہوتی رہے گی۔ اللہ تعالیٰ جو انصاف پسند بندوں کے معاملات اور ان کی زندگیوں و رشتوں سے بگاڑ پیدا ہو تو انصاف کا معاملہ روا رکھتا ہے اس لئے جب کبھی رشتوں کے معاملے نزاعی پہلو پیدا ہو تو معاف کرنے کی عادت ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ رشتے جہیز کی بنیاد پر نہیں ہوا کرتے بلکہ لینے والے ہاتھ سے دینے والا ہاتھ بہتر ہے۔ اس لئے شادی بیاہ میں رسومات اور لین دین کے مزاج و عادت کو ترک کردیں۔ ڈاکٹر محمد احسن فاروقی گورنمنٹ نظامیہ طبی کالج نے 107 ویں دوبہ دو ملاقات پروگرام پر جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر روز نامہ ’سیاست‘ اور جناب ظہیر الدین علی خاں منیجنگ ایڈیٹر سیاست اور جناب عامر علی خاں نیوز ایڈیٹر سیاست اور انتظامی اُمور کو مبارکباد دی اور کہا کہ اس پروگرام نے شہر میں مسلمانوں کی بڑی تعداد کی رائے بنائی ہے کہ وہ شادی سادگی سے انجام دیں اور ایک کھانا اور ایک میٹھا رکھیں۔ انہوں نے ملک میں جہیز اور شوہروں کی ایذا رسانی کی بنا جو لڑکیاں پریشان ہیں کہا کہ ایسے دو بہ دو ملاقات پروگرام اگر ملک بھر میں ہوں اور اس کے ذریعہ ایک مثالی معاشرہ کا پیغام دیا جائے تو ان برائیوں کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے گجرات کی لڑکی عائشہ عارف کی موت پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ لڑکیوں کو اس طرح پست ہمت نہیں ہونا چاہیئے۔ ڈاکٹر ناظم علی نے کہا کہ مسلم معاشرہ اگر اپنے سماجی شعبہ کو حرکیاتی بناتے ہوئے اسلامی طرز پر زندگیاں گذارنے کا بیڑہ اٹھاتا ہے تو وہ ایک مثالی خاندان بناسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی تہذیب کی یلغار نے بہت سارے خود ساختہ مسائل پیدا کردیئے ہیں جس کے باعث آج مسلمان اپنے پاس خیر کا ایک بڑا درس رکھنے کے باوجود ناکام ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رسول کریم ؐ کی سیرت نے شادی کو آسان بنانے کا جو پیام دیا ہے اگر امت اس پر عمل پیرا ہوجائے تو کئی مسائل آسانی کے ساتھ سلجھ سکتے ہیں اور ایسے اصحاب پر اللہ تعالیٰ کا فضل بھی ہوا کرتا ہے۔ انہوں نے مسلم لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ آزادانہ طور پر جو اختلاط کررہی ہیں اس پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ اسلام کی خلاف ورزی کرنے کے باعث تھوڑی دیر کی مسرت تو اسے حاصل ہوگی لیکن زندگی عذاب و گھٹن میں پڑ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ والدین کے لئے ضروری ہے کہ لڑکیوں کو تعلیم یافتہ بنائیں اور کم از کم گریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ تک تعلیم دینا بے حد ضروری ہے۔ شہ نشین پر محمد احمد، ناظم الدین، صالح بن عبداللہ باحاذق موجود تھے۔ جناب محمد اظہر الدین پرویز جو اس دو بہ دو پروگرام سے متاثر ہوکر موجود تھے کہا کہ آج ملت میں نت نئے مسائل پیدا ہورہے ہیں اس کی بنیاد لڑکا اور لڑکی کا اسلامی مزاج سے نا آشانا ہونا بتایا جارہا ہے، ایسے لڑکے و لڑکیاں جو دینی درسگاہوں میں تعلیم پاکر عالم و حافظ بنے ان کے مزاج میں تبدیلی نہ آنے کے باعث زندگیوں میں کئی ایک مسائل پیدا ہورہے ہیں اس لئے انہیں چاہیئے کہ اپنے مزاجوں میں تبدیلی پیدا کریں۔ اخلاق و کردار کو اپنائیں، جو لوگ اپنی زندگیاں خوشحال طور پر گذاررہے ہیں وہ اپنے لڑکوں کی شادیوں میں جہیز کا مطالبہ کرنے پر بضد ہیں۔ اس دوبہ دو ملاقات پروگرام میں حسب سابق کی طرح کاؤنٹرس قائم کئے گئے جس میں بالترتیب انجینئرنگ کاؤنٹر پر جناب ناظم الدین ، شاہد حسین اور کوثر جہاں تھے جہاں اسپیکر کے ذریعہ اناؤنس کی سہولت مہیا تھی اور ایسے لڑکے جو ملک اور بیرونی ممالک میں مقیم ہیں اور ان کی ماہانہ یافت بحیثیت انجینئر مختلف کمپنیوں میں اچھی خاصی ہے بائیو ڈاٹا کی مدد سے تعارف کروایا گیا جس سے والدین نے استفادہ کیا ۔ اسی طرح میڈیسن کاؤنٹر پر ڈاکٹر دردانہ، ڈاکٹر سیادت علی، گریجویشن کاؤنٹر پر ناظم علی، مسکین،پوسٹ گریجویشن کاؤنٹر پر رئیسہ، صفیہ بن عبداللہ، ایس ایس سی ، انٹر، عالم و فاضل کے کاؤنٹر پر ثانیہ، آمنہ، معذورین کے کاونٹر پر لطیف النساء، کمپیوٹر سیکشن میں جبین، اسماء ترنم، مہک، سعیدہ نشاط ۔ اس کے علاوہ عقد ثانی اور تاخیر سے شادی ہونے والے لڑکے ، لڑکیوں کیلئے کاؤنٹر موجود تھا۔ عقد ثانی اور گریجویٹ کاؤنٹر پر والدین کا ہجوم دیکھا گیا۔ رجسٹریشن کاؤنٹر پر امتیاز، ترنم خان، افسر بیگم، یاسمین بیگم نے فرائض انجام دیئے۔ اس طرح لڑکوں کے اور لڑکیوں بائیو ڈاٹاس رجسٹریشن اس دوبہ دو پروگرام میں ہوئے۔ جناب خالد محی الدین اسد کوآرڈینیٹر پروگرام نے والدین و سرپرستوں اور مہمانوں کے علاوہ جو والدین اس پروگرام سے متاثر ہوکر رائل ریجنسی گارڈن پہنچے ان کا خیرمقدم کیا جن میں قابل ذکر ڈاکٹر مظفر علی ساجد پروپرائٹر آر ایس اے بی سی ہال وجئے نگر کالونی، جناب محمد اظہر الدین پرویز، ڈاکٹر محمد احسن فاروقی جنہوں نے اس پروگرام کے مختلف کاؤنٹرس کا معائنہ کیا اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کو مبارکباد پیش کی ۔ سوپروائزنگ کے فرائض جناب خالد محی الدین اسد، فرزانہ، سید ماجد شطاری، محمد نصر اللہ خان نے انجام دیئے۔ اس دوبہ دو ملاقات پروگرام میں کمپیوٹر سیکشن بھی رکھا گیا جس میں والدین نے کمپیوٹرس کی مدد سے لڑکوں اور لڑکیوں کے بائیو ڈاٹاس اور فوٹوز کی مدد سے رشتوں کا انتخاب کیا۔ اس کے علاوہ آن لائن رجسٹریشن کی سہولت کیلئے بھی کاؤنٹر تھا۔