پٹنہ : بہار کے حاجی پور میں مسلم لڑکی کو زندہ جلانے کے معاملہ میں پہلی گرفتار ہوئی ہے، ایف آئی آر میں نامزد ملزم چندن کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے جبکہ بقیہ دو ملزمان کی تلاش کی جا رہی ہے۔ حاجی پور: بہار کے حاجی پورم میں ایک مسلم لڑکی نوبہار (تبدیل شدہ نام) کو زندہ جلانے کے معاملہ میں پہلی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔ متاثرہ کے اہل خانہ کی طرف سے درج کرائی گئی ایف آئی آر میں نامزد کلیدی ملزم چندن رائے کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ دو بقیہ ملزمان کی تلاش میں پولیس کی جانب سے زبردست چھاپہ ماری کی جا رہی ہے۔ دریں اثنا، فرض کی انجام دہی میں غفلت برتنے کے الزام میں ایک ایس ایچ او کو معطل کر دیا گیا ہے۔خیال رہے کہ ویشالی میں چھیڑ خانی کی مخالفت کرنے پر 20 سالہ لڑکی کو گاو?ں کے دبنگوں نے زندہ جلا دیا تھا۔ یہ واقعہ 30 اکتوبر کی رات اس وقت پیش آیا تھا، جب دیسری تھانہ کے رسول پور حبیب کی نوبہار خاتون کو گاو?ں کے ہی کچھ شرپسندوں نے چھیڑخانی کی مخالفت کے بعد مٹی کا تیل ڈال نذر آتش کر دیا۔ متاثرہ لڑکی نے لگاتار زندگی اور موت سے جدوجہد کی اور 15 دنوں بعد اس کی موت ہو گئی۔اسی دوران آل انڈیا ملی کونسل کے قومی نائب صدر مولانا انیس الرحمن قاسمی کی ہدایت پر ملی کونسل بہار کے کارگزار جنرل سکریٹری مولانا محمد نافع عارفی نے خود جاکر پی ایم سی ایچ میں اس کی عیادت کی تھی اورمالی تعاون بھی دیا تھا،ویشالی ضلع ملی کونسل کے ذمہ داروں نے بھی ویشالی میں گلناز کے گھر جاکرمرحومہ کے افراد خانہ سے ملاقات کی ہے اور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، ملی کونسل بہار کے آرگنائزر مرزا ذکی احمد بیگ نے بہار کے ہوم سکریٹری، ڈی جی پی اورویشالی ضلع کے ڈی ایم اور ایس پی کو مرحو مہ کو انصاف دلانے کے لیے خط لکھا ہے۔ ملی کونسل نے اپیل کی ہے کہ گلناز کو انصاف دلانے،مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے اورگلناز کے اہل خانہ کو مدد کے لیے انصاف پسند امن دوست آگے آئیں۔
