جگتیال میں مسلمانوں کا شدید احتجاج، سب انسپکٹر کی معطلی اور گرفتاری کا مطالبہ
حیدرآباد۔ 10 مئی (سیاست نیوز) خواتین کے تحفظ اور ان کی آزادی کو یقینی بنانے کے لئے ملک بھر میں اپنی منفرد شناخت رکھنے والی تلنگانہ پولیس اب خواتین کو خود رسوا کرنے لگی ہے اور سرے عام طمانچہ مارنے سے بھی باز نہیں آئی۔ جگتیال میں سب انسپکٹر کی جانب سے مسلم برقعہ پوش لڑکی کو طمانچہ رسید کرنے کے بعد ریاست بھر میں سنسنی پیدا ہوگئی۔ سب انسپکٹر انیل کمار جو جگتیال روول پولیس سے وابستہ ہیں۔ اس ایس آئی نے آر ٹی سی بس کا فلمی انداز میں تعاقب کرنے کے بعد بس کو روکا اور بس میں سوار ہوکر مسلم لڑکی کو طمانچہ رسید کردیا۔ لڑکی اپنی والدہ کے ہمراہ سفر کررہی تھی۔ اس واقعہ کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد جگتیال اور میٹ پلی میں مسلمانوں نے زبردست احتجاج کیا۔ سب انسپکٹر انیل کمار کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے مقامی مسلمانوں نے راستہ روک دیا۔ سب انسپکٹر کی اس حرکت کی سماج کے مختلف گوشوں سے مذمت کی جارہی ہے۔ دراصل اس بس میں سب انسپکٹر کی بیوی بھی سوار تھی اور ان مسلم ماں بیٹی سے سب انسپکٹر کی بیوی کی بحث و تکرار ہوئی اور خاتون نے شوہر کو فون پر اس کی اطلاع دی۔ سماج کے لئے ہیرو کا رول ادا کرنے والا پولیس ملازم صرف بیوی کے لئے ہیرو بن گیا اور اپنی ساری ہیرو گری اور مردانگی کو ایک بے بس مسلم لڑکی پر ظاہر کیا۔ سارے تلنگانہ کے سماج بالخصوص محکمہ پولیس کو شرمسار کرنے والے اس واقعہ سے بے چینی پیدا ہوگئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سب انسپکٹر کی بیوی بتائی جارہی اس خاتون نے سخت الفاظ میں ان ماں بیٹی کو رسوا کیا اور مخالف مسلم ریمارکس کرتے ہوئے سارے مسلمانوں کی دل آزاری کی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ایک ذمہ دار پوسٹ پر موجود پولیس عہدیدار اس واقعہ کو بیوی کی آڑ میں نظرانداز کردیتا بلکہ اس نے بس کا راستہ روکا اور بے بس مسلم لڑکی پر ہاتھ اٹھایا۔ جگتیال اور میٹ پلی کے مسلمانوں نے زبردست احتجاج منظم کیا۔ مسلمانوں کے احتجاج کو دیکھتے ہوئے سب انسپکٹر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ تاہم مقامی مسلمانوں نے سب انسپکٹر انیل کمار کو معطل کرنے اور گرفتارر کرنے کا مطالبہ کیا۔ سب انسپکٹر کی گرفتاری تک اپنے احتجاج کو جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ چلگیواڑہ سے تعلق رکھنے والی لڑکی فرح خان اپنی والدہ کے ساتھ بس میں سفر کررہی تھی۔ اس دوران سدی پیٹ میں جگتیال رورل سب انسپکٹر انیل کمار کی بیوی بس میں سوار ہوئی اورسیٹ کے مسئلہ پر بحث و تکرار شروع کردی۔ اس نے گالی گلوچ کرتے ہوئے مسلم مخالف ریمارکس کئے اور فون پر اپنے شوہر کو واقعہ سنانے کے بعد سب انسپکٹر اپنی گاڑی میں سادہ لباس میں پہنچا اور لڑإی سے بحث کرنے لگا۔ اس دوران جب لڑکی نے ویڈیو بنانے کی کوشش کی تو سب انسپکٹر برہم ہوگیا اور لڑکی کو طمانچہ رسید کردیا اور بس سے نیچے اتار دیا جیسے کہ بس اس کی ذاتی ملکیت ہے۔ اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مسلمانوں نے سخت احتجاج کیا اور سب انسپکٹر کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔ ع
صدر نشین اقلیتی کمیشن نے جگتیال ایس پی سے رپورٹ طلب کی
حیدرآباد۔/10 مئی، ( سیاست نیوز) صدر نشین تلنگانہ اقلیتی کمیشن طارق انصاری نے جگتیال میں پولیس سب انسپکٹر کی جانب سے مسلم خاتون کی بے حرمتی کے واقعہ پر سپرنٹنڈنٹ پولیس سے رپورٹ طلب کی ہے۔ صدرنشین نے اس واقعہ کے بارے میں کمیشن کو نمائندگی حاصل ہوتے ہی سپرنٹنڈنٹ جگتیال سے بات چیت کی اور فوری طور پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ مجلس بچاؤ تحریک کی جانب سے کمیشن کو نمائندگی موصول ہوئی جس میں بتایا گیا کہ ایک مسلم طالبہ شیخ فرح اپنی ماں محترمہ رضیہ بیگم کے ساتھ سدی پیٹ سے جگتیال آر ٹی سی بس میں سفر کررہی تھیں۔ ایک اور خاتون مسافر نے کریم نگر میں سوار ہوکر نشست پر ان کے ساتھ بیٹھنے کی کوشش کی اور دونوں کو ہٹنے کیلئے کہا۔ ماں اور بیٹی نے موسم گرما کے باعث خالی نشست پر بیٹھنے کی درخواست کی جس پر خاتون نے گالی گلوج شروع کردی۔ بس کنڈکٹر نے مداخلت کرتے ہوئے خاتون مسافر کو خالی نشست پر بیٹھ جانے کی خواہش کی لیکن مذکورہ خاتون نے کسی کو فون کیا اور گالی گلوج کا آغاز کیا۔ 6 افراد نے جگتیال رورل پولیس اسٹیشن کے قریب بس کو روکا اور بس میں داخل ہوکر شیخ فرح کے ساتھ بد تمیزی کی اور ان کے بال پکڑ کر بس کے باہر ڈھکیل دیا۔ لڑکی کو سڑک پر مار پیٹ کی گئی۔ بعد میں پتہ چلا کہ حملہ آور سب انسپکٹر رورل پولیس اسٹیشن انیل اور ان کے ساتھی کانسٹبل ہیں۔ خاتون مسافر ان کی اہلیہ ہے۔ طارق انصاری نے سپرنٹنڈنٹ پولیس کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے رپورٹ فوری طور پر روانہ کرنے کی ہدایت دی۔ر