اخلاقی انحطاط پر قابو پانے کیلئے سرپرستوں کے سخت فیصلے ضروری، دوستوں کے انتخاب میں بھی بچوں کی دینی رہنمائی ناگزیر
حیدرآباد۔3ستمبر(سیاست نیوز) شہر میں عام ہورہے پب کلچر کو روکنے کیلئے بنیادوں کو ہی ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔ رات کے اوقات میں ہوٹل اور ریستوراں کے کاروبار کو فراہم کی جانے والی کھلی چھوٹ کے سبب یہ ماحول تیزی سے فروغ پا رہا ہے اور نوجوان نسل اپنے شوق کو بڑھاوا دیتے ہوئے پب تک لیجانے لگی ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں رات کے اوقات میں اشیائے خورد و نوش کی فروخت کے لئے کھلے رکھے جانے والے مقامات کے سبب نوجوان اپنے گھروں میں یہ بہانہ بہ آسانی کر رہے ہیں کہ وہ ان مقامات پر تھے لیکن در حقیقت وہ اس پب کلچر کا حصہ بنتے جا رہے ہیں جو کہ انتہائی معیوب ہے۔ شہر حیدرآباد میں نوجوان نسل پب میں ناچ گانے کو شان سمجھنے لگی ہے اور یہ قباحت مسلم نوجوانوں میں بھی سرایت کرنے لگی ہے لیکن اس کو روکنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں جوکہ ماحول میں بگاڑ کا سبب بن رہے ہیں۔ شہر حیدرآباد کو چند برس قبل تک بھی عالمی سطح پر تاریخی شہر کے ساتھ ساتھ تہذیبی شہر کہاجاتا تھا لیکن عالمی شہرت یافتہ اس تہذیبی شہر میں جو واقعات پیش آرہے ہیں انہیں دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ شہر حیدرآباد کی تہذیب مسخ ہوتی جا رہی ہے اور مغربی تہذیب بلا تفریق مذہب سب کو اپنی لپیٹ میں لینے لگی ہے۔ پب جانے والے نوجوانوں کا کہناہے کہ وہ اپنے دائرہ کو فروغ دینے کیلئے اور سوسائیٹی میں اپنے مقام کو برقرار رکھنے کیلئے ان مقامات پر جانے کیلئے مجبور ہیں جبکہ ایسانہ کرنے سے انہیں سماج میں دقیانوسی تصور کیا جا رہاہے اسی لئے وہ ان مقامات میں جانے سے کوئی قباحت تصور نہیں کر رہے ہیں۔والدین اور سرپرستوں کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو دوستوں کے انتخاب کے سلسلہ میں کی گئی دینی رہنمائی سے واقف کروائیں اور انہیں بتائیں کہ زندگی میں دوست اور معاشرہ کی کیا اہمیت ہے۔والدین اگر اپنے بچوں کے دوستوں اور اپنے بچوں کے حرکات و سکنات کا جائزہ لیتے رہیں تو انہیں بروقت برائیوں سے روکا جاسکتا ہے۔ نوجوان نسل میں پیدا ہورہے اس اخلاقی فقدان کو اگر فوری طور پر روکا نہیں جاتا ہے اور ہر مسجد کے منبر سے جب تک آوازنہیں اٹھائی جاتی اور اصلاح امت کے لئے والدین اور سرپرستوں کے موقف کو سخت کرنے کیلئے اقدامات نہیں کئے جاتے اس وقت تک آئندہ نسلوں کو بحران سے محفوظ رکھنا ممکن نہیں ہوگا ۔ مساجد میں جمعہ کے موقع پر اب اصلاح امت کے ساتھ اخلاقی بحران کی صورتحال پر آنے والی سخت وعید سے خائف نہیں کیا جائے گا اس وقت تک نوجوانوں کو راہ راست پر لانے کی کوئی سبیل نظر نہیں آرہی ہے۔ شہر حیدرآباد میں نوجوانوں میں پیداہونے والے بگاڑ کے لئے بنیادی وجہ موبائیل فون کے استعمال پر عدم کنٹرول اور راتوں کے وقت آوارہ گردی کے علاوہ دینی علوم سے دوری تصور کیا جا رہاہے اور والدین و سرپرستوں کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی جانب سے بھی انہیں ان کے مقصد حیات کے متعلق باشعور بنانے کے عمل کو بھی نظر انداز کیا جانے لگا ہے تو ایسی صورت میں مکمل طور پر نوجوان نسل کو بھی ان حالات کے لئے ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ نوجوان نسل میں نظر آنے والی چھوٹی برائیوں پر ہی اگر کنٹرول کیا جاتا تو ایسی صورت میں یہ صورتحال پیدا ہی نہیں ہوتی لیکن جو صورتحال پیدا ہوچکی ہے اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ ان میں فوری طور پر تبدیلی لانے کیلئے سخت فیصلے کئے جانے چاہئے لیکن دیکھا جا رہاہے کہ چھوٹی چھوٹی برائیو ںکو والدین کی جانب سے نظر انداز کئے جانے کے نتیجہ میں نوجوان ان قبیح حرکات کی جانب متوجہ ہونے لگے ہیں اور انہیں اب یہ برائیاں چھوٹی یا بڑی نہیں بلکہ برائیاں ہی نظر نہیں آرہی ہیں جس کے نتیجہ میں وہ حجاب کے ساتھ پب میں بیٹھنے کی اجازت فراہم نہ کئے جانے پر اعتراض کرنے لگی ہیں۔نوجوان نسل کو دینی علوم سے بہرہ ور کرنے کے لئے لازمی ہے کہ انہیں فوری کسی استاذ کے آگے زانوئے ادب طئے کروانے کا فیصلہ کیا جائے اور اساتذہ بالخصوص دینی علوم کے ماہرین کو اس سلسلہ میں اپنی خدمات پیش کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ان حالات میں ان کا یہ عمل انتہائی کارگر اور باعث اجر و ثواب ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ اسلام میں جن چیزوں کو منع کیا گیا ہے امت ان چیزوں کو اختیار کرنے لگی ہے اور اب اس میں برائی بھی محسوس نہیں کی جا رہی ہے بلکہ یہ کہا جا رہاہے کہ زمانے کی ضرورت کے اعتبار سے وہ معمولی تبدیلی لاتے ہوئے آزاد خیالی اختیار کر رہے ہیں۔ عام طور پر نوجوان نسل کو یہ تاثر دیا جار ہاہے کہ ان کا اپنا مذہب ان کے اپنے گھر اور دل میں ہے اسی لئے معاشرہ میں وہ مذہب پر عمل آوری جیسی باتوں سے بھی اجتناب کریں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس خیال کے فروغ کے ذریعہ بالواسطہ نوجوانوں کو اسلام سے دور کرنے کی کامیاب کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ اسلام دنیا کا واحد آفاقی مذہب ہے جو خلوت اور جلوت ‘ تنہائی اور قوموں کے درمیان رہتے ہوئے زندگی گذارنے کے طریقہ کار اور آداب کی تعلیم دیتا ہے اور ان پر عمل آوری کو لازمی قرارد یتا ہے۔
