مسلم نوجوانوں پر سنگین مقدمات کو ہٹانے کا مطالبہ

   

Ferty9 Clinic

نظام آباد :ایڑپلی منڈل کے جانکم پیٹ میں ایک ہفتہ قبل ایک برقعہ پوش خاتون محمد صابرہ جو باسر آئی آئی ٹی میں اسٹاف نرس کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی تھیں ۔ غیر مسلم نوجوان روی چندر اجو باسر آئی آئی ٹی کا ملازم ہے اس کے ساتھ سیکل موٹر پر نظام آباد آرہے تھے۔ ان کے غیر مہذب حرکتوں کو دیکھتے ہوئے اسے جانکم پیٹ کے پاس برہم مسلم نوجوانوں نے غیر مسلم نوجوان کے ساتھ برقعہ پوش خاتون جاتے ہوئے دیکھ کر روک لیا اور نوجوان کو تھپڑ رسید کرتے ہوئے گالی گلوج کی اور ویڈیو کشی کرتے ہوئے اسے سوشل میڈیا پر وائر ل کردیا۔ جس پر بی جے پی نے اس مسئلہ کو تنازعہ بناتے ہوئے ایڑپلی پولیس اسٹیشن میںروی چندرا کے ذریعہ شکایت درج کی جس پر پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے ایس سی ، ایس ٹی ایکٹ کے علاوہ 295(A)R/W34IPC ،341 ،365 ، 323 ، 509 ، 506 ، کے علاوہ سیکشن 3(1)(r)(s),SCs/STs(POA) Act ST 2005 کے تحت کیس درج کیا ۔ جبکہ یہ نوجوان برقعہ پوش خاتون کو غیر مسلم نوجوان کے ساتھ موٹر سیکل پر سوار جاتا ہوا دیکھ کر اس کی حرکتوں سے برہم ہوگئے اور کسی قسم کی دریافت کئے بغیر کو مار پیٹ کیا ۔ لیکن بی جے پی کی جانب سے کئے گئے دبائو پر پولیس نے بھی سنگین مقدمات درج کردیا ۔ جبکہ ان نوجوانوں کو اس کی ذات کا کوئی علم نہیں تھا لیکن اس کے باوجود بھی پولیس نے ایس ٹی ایکٹ کیس درج کردیا جس پر جمعیت العلماء کے صدر حافظ محمد لئیق خان نے آج پولیس کمشنر کارتیکیا سے نمائندگی کرتے ہوئے سنگین مقدمات کو ہٹانے کا مطالبہ کیا اور مسلم نوجوانوں نے برہمی کی حالت میں مار پیٹ کی تھی لہذا اس خصوص میں غیر جانبدارانہ تحقیق کرتے ہوئے انصاف کرنے کا مطالبہ کیا۔