مسلم نوجوانوں کا جلاکر قتل کرنا ملک کیلئے شرمناک:پیس پارٹی

   

پرتاپ گڑھ: حکومت حامی انتہاپسند تنظیمیں ملک کو فرقہ پرستی کی آگ میں جھونک کر کیا پیغام دینا چاہتی ہیں ، کیا اب ملک میں فسطائی طاقتیں جو چاہیں گی کریں گی ،ان کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکے گا ؟ کیا قانون کا اثر ختم ہو چکا ہے ،جس کے سبب باحوصلہ فسطائی طاقتوں کے وحشی درندوں نے ہریانہ میں بے قصور دو مسلم نوجوانوں کو صرف اس لئے جلا کر ہلاک کر دیا کہ وہ مسلمان تھے ،اور پولیس ابھی تک صرف ایک شرپسند کو گرفتار کر سکی ہے ،جو ملک کے لئے بڑے شرم کی بات ہے ۔ملک میں جیسے جیسے انتخاب نزدیک آرہا ہے نفرت و تشدد کا بازار گرم کیا جا رہا ہے ،تاکہ اس سے بی جے پی کو فائدہ مل سکے ۔پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے ہریانہ میں دو مسلم نوجوانوں کو جلاکر ہلاک کئے جانے والے دلسوز وقوعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے کرتے ہوئے اپنے ردعمل میں کہا کہ مسلم نوجوانوں کا قتل ملک ،سماج و قانون کے لئے بڑے شرم کی بات ہے ۔ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ بی جے پی کے اقتدار والے صوبہ ہریانہ میں دو مسلم نوجوانوں کو زندہ جلاکر ہلاک کر دیا جانا رونگٹے کھڑے کر دینے والا وقوعہ ہے ،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم کسی ایسے وحشی سماج کے جذ ہیں ،جہاں انسانوں کے ساتھ ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر ہر طرح کی درندگی و بربریت کو جائز قرار دیا گیا ہے ۔جس طرح سے بجرنگ دل کے وحشی درندوں نے دو مسلم نوجوانوں کو راجستھان سے اغوا کر ہریانہ لائے اور یہاں کے ضلع بھوانی کی تحصیل لوہاروں کے جنگل میں انتہائی ظالمانہ انداز میں مار پیٹ کر جلا دیا ۔ وہیں اس وحشت و درندگی کی آخری حدود کو عبور کرنے والے وقوعہ نے برسو پہلے اڑیسہ میں پادری گراہم اسٹنس و ان کے دو معصوم بچوں کو انہیں کی کار میں زندہ جلا دینے کی یاد تازہ کر دی ہے ،اس وقوعہ میں انتہا پسند تنظیم بجرنگ دل کا کارکن دارا سنگھ ملوث تھا ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں مسلمانوں کے خلاف ظلم کی انتہا ہو چکی ہے ۔ مرکزی و صوبہ کی بی جے پی حکومت کو اب اس وقوعہ پر واضح کرنا ہوگا کہ وہ آئین و قانون کے ،یا انتہا پسند تنظیموں کے ساتھ ہیں ۔ایک جانب حکومت دعوی کرتی ہے کہ ملک میں نظم نسق کے حالات بہت بہتر ہیں ،اس لئے بیرونوں ملکوں کے صنعت کار سرمایہ کاری کے لئے آرہے ہیں ،اس دلسوز وقوعہ سے دنیا میں جو پیغام گیا ہے کہا اس سے کیا ملک کی شبیہ بہتر بنے گی ؟۔