مسلم نوجوانوں کو تعلیم و روزگار سے مربوط کرنے کی کوشش

   

ضلع ورنگل کے دانشوروں اور این آر آئیز نے جنگاؤں، اردو بھون کا جائزہ لیا
جنگاؤں۔ ضلع جنگاؤں کے محلہ مسلم میناریٹی کالونی میں تقریباً 25 سال قبل محمد جمال شریف ایڈوکیٹ و صدر انجمن ترقی اردو جنگاؤں اور محمد فاروق کھنانی مرحوم صدر محبان اردو جنگاؤں کی نمائندگی پر تحصیلدار جنگاؤں اس وقت عبدالرزاق شوق مرحوم نے حکومت کی اراضی 53/1 سروے نمبر میں 5 گنٹے الاٹ کئے تھے ۔ اس وقت کے ممبر آف پارلیمنٹ جناب محمد کمال الدین احمد مرحوم نے ایم پی فنڈ سے 5 لاکھ روپئے منظور کئے تھے تو اردو بھون اور کمپاونڈ وال تعمیر کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ مسلم میناریٹی کالونی میں مسلمان ناخواندہ ہیں اور پسماندگی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے انہیں روزگار سے مربوط کرنے اور انہیں خود مکتفی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس سلسلہ میں ضلع ورنگل کے دانشوران اور این آر آئیز کے علاوہ اہل خیر حضرات کے ہمراہ آج جنگاؤں کا اردو بھون کے پاس دورہ کیا گیا اور اس اردو بھون میں جماعت اسلامی ہند کا اسلامک انفارمیشن سنٹر قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس سنٹر میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کا بھی معقول انتظام کیا جائے گا۔ ترک تعلیم کرنے والے طلباء کو مدارس میں شریک کروایا جائے گا۔ خواتین کیلئے ٹیلرنگ سنٹر اور گھریلو صنعتوں کی تربیت بھی دی جائے گی۔ تعلیم بالغان کا مفت انتظام رہے گا اور ایک اردو لائبریری قائم کی جائے گی۔ ماہانہ مفت طبی کیمپ بھی منعقد کیا جائے گا۔ جناب خالد سعید ناظم جماعت اسلامی ہند جنگاؤں نے کہا کہ اسلامک انفارمیشن سنٹر کو قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی اور یہاں کے غریب لوگوں کی ہر طرح کی ممکنہ مدد کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ جمال شریف ایڈوکیٹ نے کہا کہ ایک عرصہ دراز سے مسلم میناریٹی کالونی میں مسلمانوں کی بھلائی کیلئے کوشش کی جارہی ہے اب وہ پوری ہوگی۔ اگر ہم تھوڑی محنت کریں تو ایک مثالی مرکز قائم ہوگا۔ اس موقع پر ورنگل کے دانشوروں ، این آر آئیز مسرس زین العابدین، محمد عقیل، منیر الدین، محمد اعجاز کے علاوہ احمد محی الدین، عابد فیصل، عماد الدین، محمد اشرف، بشیر، محمد اسلم، ڈاکٹر رحیم رامش، سمیر، ساحل، خواجہ اور مسلم میناریٹی کالونی کے دیگر افراد موجود تھے۔