مسلم نوجوانوں کو داعش میں شمولیت کیلئے شام بھیجنے والے تاجر گرفتار

   

بنگلورو اسلامک اسٹیٹ (داعش) کیس میں این آئی اے کی تحقیقات ، پوچھ گچھ میں کئی انکشافات

نئی دہلی : قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے نے مزید دو ملزمین کو گرفتار کیا ہے جن میں ایک بزنس تجزیہ کار ہے اور ایک چاول کے بیوپاری ہے جنھوں نے بنگلور کے نوجوان کو ڈونیشنس اور اپنے ذرائع سے انتظامات کرکے شام روانہ کیا تھا تاکہ داعش میں شمولیت اختیار کرسکے۔ ان لوگوں نے اپنی تنظیم کے ارکان کو عسکری سرگرمیوں میں اہم رول ادا کرنے کے لئے اُکسایا تھا۔ بنگلورو اسلامک اسٹیٹ (داعش) کیس کی تحقیقات کے سلسلہ میں این آئی اے نے کہاکہ احمد عبدالقدیر ٹاملناڈو کے رامنتاپورم کے رہنے والے ہیں اور عرفان نصیر کرناٹک کے بنگلور کے شہری کو آئی ایس آئی ایس بنگلور شاخ کے سلسلہ میں گرفتار کیا ہے۔ اِن کے مکانات کی تلاشی بھی لی گئی۔ دستیاب مواد سے پتہ چلا کہ احمد عبدالقدیر چینائی کے ایک بینک میں بزنس تجزیہ کار ہیں اور عرفان نصیر بنگلور میں چاول کے بیوپاری ہیں۔ این آئی اے نے گزشتہ سال 30 ستمبر کو ایک درج رجسٹر کیا تھا اور پتہ چلایا تھا کہ بنگلور میں بھی آئی ایس آئی ایس کا ٹھکانہ قائم کیا گیا ہے۔ اِس سلسلہ میں بنگلور سے عبدالرحمن کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ پوچھ گچھ کے دوران انھوں نے اپنے ساتھیوں کے نام بتائے اور دیگر کئی انکشافات کئے۔ یہ تمام لوگ حزب التحریر کے ارکان ہیں۔ اِن لوگوں نے ایک گروپ تشکیل دیا جس کا نام قرآن سرکل رکھا گیا جو بنگلور میں مسلم نوجوانوں کو عسکری سرگرمیوں کے لئے اُکسارہا ہے اور انھیں شام میں جنگ زدہ علاقوں کو روانہ کرنے کے لئے فنڈ اکٹھا کررہا تھا۔ اِن نوجوانوں کو داعش کی مدد کرنے کے لئے بھیجا جارہا ہے۔ عہدیدار نے کہاکہ اِن انکشافات کے بعد این آئی اے نے ایک کیس رجسٹر کیا ہے۔ عبدالقدیر ، عرفان ناصر اور دیگر ساتھیوں نے مل کر گروپ کے ارکان کومتحرک کیا۔ مسلم نوجوان ان کے جھانسہ میں آرہے تھے۔ اِن کے مکانات کی تلاشی لینے پر مشکوک مواد دستیاب ہوا اور الیکٹرانک ڈیوائس بھی ضبط کئے گئے۔ دونوں کو این آئی اے کی خصوصی عدالت کے روبرو پیش کیا گیا جس نے 10 دن کی تحویل میں دیدیا۔