فضول خرچی سے اجتناب کا مشورہ ، ایم ایل سی محمد فاروق حسین کا اظہار خیال
میدک : کسی بھی قوم کی ترقی کامیابی و ناکامی ، عروج و زوال میں نوجوانوں کا اہم کردار ہوتا ہے ۔ خاص کر آج مسلم نوجوان بے راہ روی کا شکار ہوتے جارہے ہیں ۔ ان میں آج انتہائی درجہ کی بے حیائی لمحہ فکر ہے ۔ نوجوانوں کو درست سمت میں لانا اور مذہب سے جوڑنا بیحد ضروری ہوگیا ہے ۔ جناب محمد فاروق حسین ایم ایل سی و سابق صدرنشین اوقاف بورڈ متحدہ آندھراپردیش اپنے دورۂ میدک کے موقع پر آر اینڈ بی گیسٹ ہاؤز میں نمائندہ سیاست میدک محمد فاروق حسین سے بات چیت کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ انھوں نے فضول خرچی کو لیکر کہا کہ وہ کام کریں جس کی تم میں طاقت ہو ۔ خاص کر شادی بیاہ و دیگر تقاریب میں آج دیکھا دیکھی فضول خرچی عام ہوچکی ہے ۔ انھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج دواخانوں کا رُخ کرکے دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ دواخانوں میں معمر افراد سے زیادہ نوجوان بیمار پڑے ہوئے ہیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ نوجوان آج زیادہ طورپر گٹکھے کا استعمال کررہے ہیں ۔ انھوں نے کہاکہ اگر ریاست میں مسلمانوں کا تناسب 15 تا 20 فیصد ہے تو دواخانوں کا رُخ کرکے دیکھو مسلمانوں کا تناسب 35 فیصد تک ہے۔ انھوں نے کہا کہ فیشن پرستی ، ریاکاری ، عیش و عشرت دیمک کی طرح چاٹ چاٹ کر کھوکھلا کردیتی ہے ۔ فاروق حسین نے کہا کہ مذہبی جنون ملک کی ترقی میں رکاوٹ بن رہا ہے ۔ انھوں نے ایک سوال پر آخر میں کہا کہ عام انتخابات یعنی 2024 ء میں ملک میں بہترین سیکولر حکومت کے قیام کیلئے کے سی آر کا اہم کردار ہوگا ۔ انھوں نے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں بھی تیسری بار ٹی آر ایس کی حکومت کا قیام یقینی ہے اور ملک میں بی آر ایس کا بھی اہم کردار کا ہونا یقینی ہے۔ ریاست میں بھاجپا کی زہرافشانی کو شکست ہوگی ۔ آخر میں انھوں نے سیول سرویس امتحانات میں حیدرآباد کے نوجوان ڈاکٹر مصطفی ہاشمی کی محنتوں کی خوب ستائش کی کہ وہ حافظ قرآن بھی ہیں ، کووڈ جیسے خطرناک دور میں وہ مریضوں کا علاج جاری رکھتے ہوئے سیول سرویس کی تیاری جاری رکھی ، دیگر تعلیمیافتہ نوجوانوں کیلئے ڈاکٹر ہاشمی ایک آئیڈئیل کی طرح ہیں ۔ انھوں نے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے اپنے زندگیوں میں انقلاب لانے کی ہدایت دی۔